پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

شوگرکی مقدار چیک کرنے والا سیمی آٹومیٹک پمپ تیار

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
A diabetic tests his blood sugar level in Vienna November 13, 2012. Picture taken November 13. REUTERS/Heinz-Peter Bader (AUSTRIA - Tags: HEALTH) - RTR3FFSV

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان میں پہلی بار شوگر کے مریضوں کوجسم میں انسولین کی کمی اورخون میں شوگرکی مقدار چیک کرنے والا سیمی آٹومیٹک پمپ تیار کر لیا گیا ہے جو 14نومبر کو ذیابیطس کے بارے میں عالمی دن کے موقع پر متعارف کرایاجائے گا۔نیم خودکار پمپ 24 گھنٹے خون میں شوگرکی مقدارکو چیک کرکے ضرورت کے مطابق جسم میں انسولین منتقل کرے گا، پمپ چھوٹی ڈیوائس کی طرز پر بنایاگیا ہے جو متاثرہ افرادکے پیٹ کے نیچے لگائی جائے گی جس کا سائز چھوٹے موبائل فون جتنا ہوگا ڈیوائس پمپ کے کینولاکو پیٹ میں لگایا جائے گا یہ بات ماہر ذیابیطس اور سرسید کالج کے پروفیسر زمان شیخ نے بتائی انھوں نے کہاکہ14 نومبرکو ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر خودکار پمپ متعارف کرایا جائے گا۔خودکار پمپ امریکا سمیت کئی ممالک میں استعمال کیا جارہا ہے جو بین الاقوامی ادارے ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے انھوں نے کہا کہ نیم خودکار پمپ کی کینولا (سوئی) پیٹ کے نچلے حصے میں لگائی جاتی ہے اور چند ہفتوں بعد کینولا تبدیل کیا جاتا ہے، انسولین ختم ہونے کی صورت میں پمپ میں مزید انسولین ڈالی جاسکتی ہے۔نیم خودکار انسولین پمپ کے متعارف ہونے سے ذیابیطس کے مریضوںکو علاج میں آسانی ہوگی، مریض 24 گھنٹے اپنی شوگر اورانسولین خود مانیٹرکرسکیںِ گے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس ہولناک صورت اختیارکررہا ہے،، کم عمر بچوں میں موٹاپا خطرناک قرار دیتے ہوئے انھوں نے والدین سے کہاکہ وہ بچوں کو فاسٹ فوڈ، سافٹ ڈرنکس سے پرہیزکرائیں اور ایسے افراد جنھیں شوگر کا موروثی مرض ہو وہ اپنے بچوںکو بہت زیادہ احتیاط کرائیں۔موٹاپے کے شکار بچوںکو ورزش اور چہل قدمی کرائی جائے اور انھیں گھرکے پکے کھانے کھلائے جائیں، فاسٹ فوڈ بچوں کو مزید موٹاپے کا شکار کردیتے ، بچوں کو مرغن اور تلی ہوئی اشیا کھلانے سے بچے کم عمری میں موٹاپے اور ذیابیطس کا شکار ہورہے ہیں ، ذیابیطس کا مرض بنیائی،گردے اور امراض قلب کے امراض کا بھی باعث بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…