پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا: 784 بنیادی مراکز صحت 8 سال سے تعمیر و مرمت اور طبی سہولیات سے محروم

datetime 12  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) خیبر پختونخوا میں بنیادی مراکز صحت کی تعمیر و مرمت کے لئے 2007ء سے اب تک کوئی فنڈز نہ رکھنے کا انکشاف ہوا ہے دو سے زائد بی ایچ یوز خستہ حالی کا شکار ہیں۔پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بنیادی مراکز صحت خستہ خالی کا شکار ہیں۔ صوبائی حکومت بی ایچ یوز کی تعمیر ومرمت اور طبی سہولیات کے لئے کچھ نہ کر سکی مقامی لوگ ایمرجنسی کی صورت میں شہر کے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں 784 بنیادی مراکز صحت میں سے 100 میں عملے کی کمی کا سامنا ہے جبکہ 200 سے زائد بی ایچ یوز کی حالت خستہ ہے۔ پشاور، ہری پور، مانسہرہ، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو اور لکی مروت جیسے اضلاع میں یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر ضلع کے بی ایچ یوز کو ادویات اورتنخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی کروڑ روپے دیئے جاتے ہیں۔ ایک بی ایچ یو کو 45 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے ان بنیادی مراکز صحت کی تعمیر و مرمت کیلئے 2007ء سے اب تک کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے، اس کے علاوہ صوبے میں 8 ٹیچنگ ہسپتال، 21 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال، 19 تحصیل ہیڈ کوارٹرز اور 125 دیگر ہسپتال ہیں جبکہ 86 رورل ہیلتھ سنٹرز، 784 بی ایچ یوز، 421 ڈسپنسریاں، 66 میٹرنٹی ہیلتھ سنٹرز، 26 سب ہیلتھ سنٹرز اور 60 دیگر سنٹرز بھی موجود ہیں، لیکن یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں اور مریض طبی سہولیات کیلئے محروم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…