پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

اگر آپ بھی کھانا کھاتے وقت دوسرے کاموں میں لگے رہتے ہیں تو۔۔۔

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)بزرگ کہا کرتے ہیں کہ کھانا آرام سے بیٹھ کر کھانا چاہیے اور کھانے کے دوران ادھر ادھر کی باتوں سے اجتناب برتنا چاہیے اور اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں یہی بتایا گیا ہے لیکن ہم سوچا کرتے تھے کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے؟
آخر سائنسدانوں نے ان بزرگوں کی تائید کرتے ہوئے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ کھانے کے ساتھ کام یا باتوں میں مشغول رہنے سے انسان موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ وقت بچانے کے لیے چلتے پھرتے بھی برگر یا اسی نوع کی دیگر اشیائ کھاتے ہیں۔ یہ عادت بھی انسان کو موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔سائنسدانوں کی اس ساری تحقیق کا لب لباب یہ ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے اگر آپ کی توجہ کھانے کی بجائے کہیں اور ہے تو آپ کو یہ احساس نہیں رہتا کہ آپ کتنا کھا چکے ہیں، اسی چکر میں آپ کھاتے چلے جاتے ہیں اور نتیجے میں آپ کا وزن بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کو کہنا ہے کہ اس طرح نہ صرف وزن بلکہ انسان کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ کھانا کھانے لگتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک فطری عمل ہے کہ ہم جتنا زیادہ کھاناکھائیں اتنی ہی ہماری بھوک بڑھ جاتی ہے، اسی لیے ہی شاید بزرگ فرمایا کرتے ہیں کہ بھوک اور نیند کو جتنا چاہو کم کر لو اور جتنا چاہو بڑھا لو۔
برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر جین اوڈین کا کہنا ہے کہ ای میلز چیک کرتے ہوئے، ٹی وی دیکھتے ہوئے یا کوئی اور کام کرتے ہوئے کھانا کھانے سے انسان بھوکا ہی رہتا ہے کیونکہ اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھا رہا ہے لہٰذا کچھ ہی دیر بعد اسے پھر بھوک لگ جاتی ہے۔ بھوک مٹانے کے لیے کھانا کھانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ آرام سے بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ چلتے پھرتے مختلف چیزیں کھانے سے وزن میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ہمیں کھانے کے لیے وقت نکالنا چاہیے اور ہمیشہ آرام سے بیٹھ کر کھانا چاہیے اوراپنی توجہ کھانے کی طرف رکھنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…