منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

لینس کا استعمال کرنے والوں کیلیے چند اہم احتیاطیں

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) ماہرین نے کانٹیکٹ لینس پہننے والوں کو چند اہم غفلتوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس میں احتیاط نہ برتی جائیں تو کانٹیکٹ لینس پہننے والے افراد انفیکشن اور ا?نکھ کے دیگر مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد کانٹیکٹ لینس کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس میں صرف ایک بےاحتیاطی ان کی انمول ا?نکھوں کے لیے شدید خطرات کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس ضمن میں امریکا کے مراکز برائے امراض اور احتیاط (سی ڈی سی) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صرف امریکا میں ایک تہائی افراد کانٹیکٹ لینس پہننے سے کم ازکم ایک قابلِ علاج عارضے کا شکار ہوسکتے ہیں جن میں آنکھ کا درد اور اس کی سرخی شامل ہے۔
اس ضمن میں آنکھوں کی ایک ماہر ڈاکٹر جینیفر کوپ کا کہنا ہےکہ خواہ کسی بھی عمر کے لوگ ہوں اچھی بصارت کا انحصار مجموعی احتیاط اور صحت مندانہ رویئے پر ہوتا ہے جس میں کانٹیکٹ لینس کی حفاظت اور احتیاط بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر جنینفر کے مطابق کانٹیکٹ لینس پہننے والے بہت سے افراد یہ جانتے ہی نہیں کہ اس میں کون سی احتیاطیں ضروری ہیں اور لینس کی حفاظت کس طرح کی جائے۔
سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق خود امریکا جیسے ملک میں 99 فیصد افراد کانٹیکٹ لینس کے استعمال اور احتیاط سے واقف نہیں ہوتے، 80 فیصد کانٹیکٹ لینس کی ڈبیا ( کیس) کو مقررہ وقت سے زائد عرصے تک استعمال کرتے ہیں اور انہیں نہیں بدلتے جن میں سے نصف سے زائد افراد نے اعتراف کیا کہ وہ ڈبیہ میں پہلے سے موجود محلول میں مزید تازہ محلول شامل کردیتے ہیں اور ڈبیا خالی نہیں کرتے جب کہ 50 فیصد افراد نے یہ خطرناک اعتراف کیا کہ وہ لینس پہن کر سوجاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ ان میں سے ایک بھی بد احتیاطی آنکھوں کے انفیکشن کو 5 گنا زیادہ بڑھاسکتی ہے۔ سی ڈی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چند باتوں پر عمل کرکے کانٹیکٹ لینس سے ہونے والے امراض اور انفیکشن سے بچاجاسکتا ہے۔
کانٹیکٹ لینس کو ہاتھ لگانے سے قبل اپنے ہاتھوں کو صابن (اگر جراثیم کش صابن ہو تو بہتر ہے) سے اچھی طرح دھولیجیے اور ہاتھ خشک کرکے کانٹیکٹ لینس پہنیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…