اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

”ٹرائٹوما“ ایک ایسا کیڑا جس کے کاٹنے سے انسانی دل مردہ ہوجاتا ہے،طبی ماہرین

datetime 16  اگست‬‮  2015 |

ہیوسٹن(نیوز ڈیسک) ماہرین کے مطابق ”ٹرائٹوما“ نامی ایک بھنورا کاٹنے سے خوفناک مرض لاحق ہوسکتا ہے جس سے دل کے خلیات گھل کر ختم ہوجاتے ہیں اور مریض دم توڑدیتا ہے۔
”ٹرائٹوما یا کسنگ بگ “نامی کیڑے کے کاٹنے کے نتیجے میں چاگس نامی مرض پھیلتا ہے کیونکہ یہ منہ کے قریب کاٹتا ہے اس میں ایک ٹراپینسوما کروزائی نام کا ایک طفیلیہ (پیراسائٹ) پایا جاتا ہے جو دھیرے دھیرے دل کے پٹھوں کو ختم کرتا ہے اور مریض ہارٹ فیل ہونے سے مرجاتا ہے گویا یہ قلب کو کھاجاتا ہے۔لاطینی امریکا میں اس کا مرض عام ہے اور اس کے کاٹنے سے سالانہ 11 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔
ٹرائٹوما مچھرکی طرح انسانی خون توپیتا ہے لیکن اس کے برخلاف خون کے ذریعے اپنے جراثیم جسم میں داخل نہیں کرتا بلکہ بعض جراثیم بھرا فضلہ جلد پرچھوڑ دیتا ہے جس کے بعد کھجانے سے جلد میں خردبینی سوراخ پیدا ہوجاتے ہیں اور جراثیم اندر داخل ہوجاتا ہے اور یہ جراثیم خون کی منتقلی اور ماں سے بچے میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
اس کیڑے کے کاٹنے سے انفیکشن سے متاثر ہونے کے بعد وزن گرنا، بھوک کی کمی اور تھکاوٹ وغیرہ عام امراض ہیں جب کہ یہ جراثیم اتنے خطرناک ہیں کہ دل میں باریک باریک سوراخ بھی ہوجاتے ہیں۔ اس کا واحد علاج بروقت تشخیص ہے جس میں 2 اینٹی پیراسائٹک دوا مو¿ثر ثابت ہوسکتی ہیں جنہیں کم ازکم 3 ماہ تک کھلایا جاتا ہے۔ امریکی اداروں کے مطابق یہ مرض اب لاطینی امریکا سے امریکی ریاست ہیوسٹن میں بھی پہنچ چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…