اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ماں کا دودھ پینے والے بچے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں

datetime 2  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )دنیا میں بچوں کی بہت سی بیماریوں کی وجوہات پرہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جس بچے کو ماں اپنا دودھ پلاتی ہے وہ صحت مند رہتا ہے اورجواس نعمت سے محروم ہو، اس میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ ملک میں ہفتہ بریسٹ فیڈنگ جاری ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے قدرت کا ایک ایسا انمول تحفہ ہے جواسے زندگی بھر کے لئے مضبوط اور بیماریوں سے محفوظ بناتا ہے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ دودھ پلانے کی مدت کم ازکم چھ ماہ ہونی چاہیے تاہم اگر بچے کو ڈھائی سال تک دودھ پلایا جائے تو یہ بچے کے لئے زیادہ مفید ہے۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا کےمطابق 70فیصد مائیں بچوں کو اپنے دودھ کی بجائے ڈبوں کا دودھ پلاتی ہیں، جس سے بچے پیٹ، سینے اورجلدی امراض کا آسان شکاربن جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ پلانے کا یہ عمل نہ صرف بچےبلکہ ماں کے لئے بھی سود مند ہے، جو ماں کو چھاتی کے کینسراور موٹاپے سے بچاتی ہے۔ ماں اوربچے کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے دنیابھرکی طرح پاکستان میں بھی آج بریسٹ فیڈنگ ویک منایا جارہا ہے جویکم سے 7 اگست تک جاری رہے گا۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ بہت ساری ایسی مائیں ہوتی ہیں کہ جنہیں خود بڑی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں لیکن یہ بھی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ان کادودھ ان کے بچے کے لیے تریاق ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…