لندن(نیوزڈیسک) برطانوی ماہرین چشم نے معمر افراد کے لیے ایک ایسا الیکٹرانک ریٹینیا یا الیکٹرانک آنکھ تیار کی ہے جس سے آنکھ بند کرکے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔مانچسٹررائل آئی اسپتال کے سرجنوں نے 80 سالہ شخص رے فلائن کو سرجری کے ذریعے آنکھ میں ایک چپ لگائی جسے مصنوعی ریٹینا کہا جاسکتا ہے اس کے ذریعے آنکھ بند کرکے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ برطانوی شہری رائے فلائن بڑھاپے کی ایک بیماری میکیولیر ڈی جنریشن کے شکار ہیں جو عمررسیدہ افراد میں نابینا پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔برطانوی اسپتال کی جانب سے نصب کی گئی اس چپ پر تقریباً 90 لاکھ روپے لاگت آئی جس کے بعد وہ اب بآسانی پڑھ لکھ بھی سکتے ہیں۔ اس جدید نظام میں ایک چشمہ پہنایا جاتا ہے جس پر ایک چھوٹا کیمرہ نصب ہوتا ہے جو تصاویراور ویڈیو کا ڈیٹا ایک چھوٹے کمپیوٹر تک بھیجتا ہے جہاں ڈیٹا کو برقی سگنلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے پھر یہ سگنل وائرلیس انداز میں آنکھ کے پاس لگے چھوٹے اینٹینا تک جاتے ہیں اور باریک تاروں کے ذریعے آنکھ میں نصب چپ تک پہنچتے ہیں اس طرح ریٹینا پر ایک عکس بن کر دماغ تک پہنچتا ہے اور وہ منظر دکھائی دینے لگتا ہے اور اس طرح اب وہ آنکھ بند کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
برطانوی ماہرین چشم نے نابینا افراد کیلیے بائیونک آنکھ تیار کرلی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































