کراچی (نیوزڈیسک )رمضان المبارک کے دوران کھانے پینے پر کنٹرول رکھنے والے، عید پر بے قابو ہونے سے بچیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کھانے کے معمولات بتدریج بحال کئے جائیں، اچانک بسیار خوری مختلف بیماریوں سے دوچار کرسکتی ہے۔پابندی خواہ کوئی بھی ہو، اچانک ہٹے تو بندہ یا ہو کا نعرہ مار کر ہر وہ کام کرتا ہے جس پر پابندی لگی ہوتی ہے، کچھ ایسی ہی صورتحال رمضان المبارک کے بعد عید کے موقع پر بھی دیکھنے میں آتی، کہاں وہ کیفیت کہ سحر سے افطار تک دانا پانی سب بند اور کہاں یہ منظر کہ دستر خوان پر منہ میں پانی کا فوارہ کھولنے والے انواع و اقسام کے کھانوں کی بہار سجی ہوتی ہے۔ تاہم ہوشیار طبی ماہرین کہتے ہیںکہ کھانے پینے کے معمولات میں اچانک زیادتی نظام ہضم کا بیڑا غرق کرسکتی ہے-ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھانے میں بے احتیاطی سے ڈائریا ،ہیپاٹئیٹس،فلو سمیت مختلف امراض کی شکایات بڑھ جاتی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق عید کے موقع پر بچوں کو ٹھیلے پر بکنے والے مشروبات اور غیر معیاری چیزیں کھانے سے روکا جائے۔عید پرمزے مزے کی ڈشز دیکھ کر بے قابو ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کھائیں ضرور مگر اعتدال کے ساتھ تاکہ عید اسپتال کے بجائے گھر والوں کے ساتھ گزرے-
کھانے کے معمولات بتدریج بحال کرکے بیمار ہونے سے بچیں ،ماہرین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































