بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

بے چینی ،مایوسی موروثی بیماری قرار

datetime 8  جولائی  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)طبی ماہرین نے مایوسی کو موروثی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اداسی، بے چینی اور ڈپریشن میں مبتلا افراد کی اولادیں بھی ان ہی امراض کا شکار ہوسکتی ہیں۔طبی ماہرین کی جانب سے تحقیق کے لیے 600 بندروں کے خاندانی سلسلوں کو مطالعہ کیا گیا جس میں بندروں میں بے چینی اور مایوسی سے وابستہ رویوں اور دماغی عکس نگاری(امیجنگ) کے درمیان تعلق دیکھا گیا جس سے ثابت ہوا کہ بندر اور انسان دونوں ہی میں ڈپریشن اور مایوسی کے جین اپنی نسل میں منتقل کرتے ہیں جن کا انکشاف والدین اور بچوں کے دماغی اسکین سے ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق دماغی اسکین سے ثابت ہوا کہ دماغی سرکٹ میں غیرمعمولی سرگرمی ڈپریشن کی وجہ ہوتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوسکتی ہے۔ اس اہم تحقیق کے بعد ماہرین کے خیال ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد کے بچوں کےعلاج میں اہم پیش رفت حاصل ہوسکے گی اور مستقبل میں اس اہم مرض سے بچا کا راستہ ہموار ہوگا۔واضح رہے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں انسان شدید ڈپریشن کی وجہ سے معمولاتِ زندگی انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں اور یہ مرض انہیں خودکشی کی جانب بھی دھکیل سکتے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…