اسلام آباد (نیوزڈیسک ) بیلجیئم میں ایک خاتون نے اپنی بیضہ دانی کے 15 برس قبل منجمد کیے گئے ٹشوز کی پیوند کاری کے نتیجے میں ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔وہ دنیا کی پہلی ایسی خاتون ہیں جن پر یہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے ہے۔یہ کارنامہ طبی طور پر بیضہ الرحم کے خلیوں کی بحالی کے بعد ہوا اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید سینکڑوں نوجوان خواتین جو ایسے عمل سے گزرتی ہیں وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔خیال رہے کہ مذکورہ خاتون جب صرف 13 سال کی تھیں تو کیموتھراپی سے قبل ان کی بیضہ دانی نکال لی گئی تھی جس کے بارے میں یہ خدشہ تھا کہ اس عمل کے دوران اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس بیضہ دانی کو محفوظ رکھنے کے لیے منجمد کر دیا گیا تھا۔بیلجیئم کی اس خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جب وہ پانچ سال کی تھی تو انھیں سکل سیل انیمیا (ایک قسم کا سرطان) ہوگیا تھا اور 13 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ برسلز میں ڈاکٹروں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ایسے میں کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی دیے جانے سے قبل مریض کے مدافعتی عمل کو بند کر دیا جاتا ہے کہ وہ نئے خلیوں کو مسترد نہ کردے۔ایسے عمل میں عام طور پر مریضہ کی بیضہ دانی کام کرنا بند کر دیتی ہے اور وہ بانجھ ہو جاتی ہیں۔ڈاکٹروں نے اس لڑکی کی داہنی بیضہ دانی نکال لی اور ان کے خلیوں کے درجنوں ٹکڑوں کو منجمد کر دیا۔بیلجیم کی خاتون میں ان کے بچپن کے نکالے گئے خلیوں کی پیوند کاری کی گئی ایک دہائی بعد جب اس خاتون نے ماں بننے کی خواہش ظاہر کی تو برسلز کے ایرازمے ہسپتال میں گائناکولوجسٹ ڈاکٹر ایزابیلا دیمیستیر نے ان کی عمل تولید کی اہلیت کو بحال کرنے کی کوشش شروع کی۔پہلے ان کے بیضہ الرحم کے منجمد خلیوں کو بحال کیا گیا پھر ان کے بائیں بیض?الرحم کے متاثرہ خلیوں کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ علاج کے دوران انھوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ان سب کے نتیجے میں ان کے ہارمون میں تبدیلی آئی اور پختہ تخم کے غدود والی چھوٹی تھیلیاں بنیں اور پھر انھیں حیض آنے لگا۔ان تمام طبی مداخلتوں کے دو سال بعد وہ 27 سال کی عمر میں حاملہ ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق ان کی پیدائش کونگو میں ہوئی تھی لیکن جب وہ 11 سال کی تھیں تو وہ بیلجیئم منتقل ہو گئیں۔گذشتہ سال نومبر میں وہ ایک صحت مند بچے کی ماں بنیں جس کا وزن سات پونڈ سے قدرے کم تھا۔یہ رپورٹ انسانی عمل تولید کے جریدے ’ہیومن ریپروڈکشن‘ میں شائع ہوئی ہے اور اس کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے سینکڑوں نوجوان مریضوں میں امید کی کرن دوڑ گئی ہے کہ ایک دن وہ بھی اپنے بچے پیدا کر سکیں گی۔سائنسدانوں نے اس کامیابی کو ’اہم‘ اور ’دلچسپ‘ قرار دیا ہےڈاکٹروں کے مطابق مستقبل میں جو لڑکیاں لوکیمیا، سیکل سیل اور سارکوما جیسی بیماریوں سے نبرد آزما ہوں گی انھیں عام طور پر بیضہ دانی کو محفوظ کرنے کا متبادل پیش کیا جائے گا تاکہ ایک دن ان کا اپنا کنبہ ہو سکے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
گریٹ گیم
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری



















































