پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بڑھتے موٹاپے کا علاج ,ٹی وی اشتہارات پر پابندی؟

datetime 30  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) دنیا بھر میں موٹاپا کا مسئلہ کس قدر سنگین صورتحال پیدا کررہا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ فی الحال چالیس برس سے اسی برس کے بیچ کے افراد میں موٹاپا موت کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اس سے قبل شراب نوشی اور ایڈز جیسی خطرناک عادات موت کا سبب تھیں۔ اس عمر کے بیچ کے تقریباً اٹھارہ فیصد لوگ موٹاپے کے سبب ہلاک ہوتے ہیں اور سالانہ صرف امریکہ میں موٹاپے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر عوام ڈیڑھ سو کھرب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ چشم کشا انکشافات نے امریکی دانشوروں کو بوکھلا دیا ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اشتہارات جن میں کھانے پینے کی مزیدار سی اشیا دکھائی جاتی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب پوری ٹی وی سکرین پر گرما گرم بھاپ اڑاتی بریانی کی پلیٹ یا پھر پنیر سے بھرپور خوش رنگ پزا یا پھر تلی ہوئی مرغی وغیرہ جیسی چیزیں ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں تو انسانی نفسیات پیٹ بھرے شخص کو بھی بھوکا ہونے کا احساس دلاتی ہے اور یوں ایسی چیزیں کھانے کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ یہ اشتہارات پیش کرنے والے کمپنیز انسانی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں، اسی لئے وہ صرف ٹی وی ہی نہیں بلکہ بس سٹیشن، اخبار راسلے، شاپنگ مارکیٹ سے لے کے ہر جگہ ایسے ہی اشتہا انگیز کھانوں کی تصاویر لگاتی ہیں۔ تاحال امریکی حکومت نے اس ضمن میں کچھ اقدامات کئے ہیں جیسا کہ سکول میں کھیل کے میدان سے جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کے اشتہارات شائع کرنے پر پابندی لگائی جاچکی ہے نیز ایک اور قانون کے ذریعے سکولز میں ان کی فروخت کو بھی محدود کیا جاچکا ہے تاہم یہ اقدام کافی نہیں ہیں کیونکہ سروے اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق فی الوقت بچوں کی نسبت بڑوں میں موٹاپے کی شرح دوگنا ہے۔ بچوں میں ہر چھٹا بچہ موٹاپے کا شکار ہے جبکہ بڑوں میں ہر تیسرا فرد موٹاپے کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ موٹے ہونا سب سے آسان ہے۔ صرف ایک اضافی فرائیز کی سرونگ بھی آپ کو اضافی100کیلوریز دیتی ہے جس سے مہینے میں ایک پونڈ وزن بڑھ سکتا ہے۔ اس کیلئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں خود پر قابو رکھنا ہوگا۔ یار دوست زبردستی ایک سکوپ آئس کریم یا چپس کھانے پر اصرار کریں تو انہیں نہ کہنے کا گر سیکھنا ہوگا۔ مگر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔ خاص کر جب میڈیا کی بدولت ہمارے اردگرد ہرطرف ایسے ہی اشتہا انگیز کھانوں کی تصاویر موجود ہوں۔ اس کیلئے ذاتی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو اشتہاری مہمات پر بھی کنٹرول کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کیلئے اپنے جسم کی ضرورت اور زبان کے چٹخاروں کے بیچ فرق کرنا آسان ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…