اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

خوراک بڑھا کراپنا وزن 20کلو کم کر نے والی خاتون

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوڈیسک)آپ نے اکثر سن رکھا ہوگا کہ لوگ کھانا کم کرکے اپنا وزن کم کرتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے لڑکی کے بارے میں بتائیں گے جس نے اپنی خوراک بڑھا کر اپنا 20کلو وزن کم کیا۔پانچ سال قبل 23سالہ ایما بوئیاپنی بیٹی کی پیدائش پر بہت زیادہ موٹی ہوگئی اور اس کا وزن 95کلوگرام تک جا پہنچااور ڈاکٹروں نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے اپنا وزن کم نہ کیا تو اس کے شدید نقصانات ہوسکتے ہیں۔پہلے ایما take aways،سنیکس،چاکلیٹ وغیرہ کھاتی تھی اور اسی وجہ سے اس کا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگالیکن پھر اس نے گھر پر ہی کھانا بناناشروع کیا اور اپنے ہاتھوں سے سلاد،پھل ،پاسٹاوغیرہ بناکر کھانے لگی۔اس کا کہنا ہے کہ پہلے وہ ہر طرح کے کھانے کھایاکرتی تھی اور کبھی بھی اس بات کی پرواہ نہ کرتی تھی کہ ان کھانوں کی وجہ سے وہ موٹی ہورہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ بہت زیادہ کھانا نہیں کھاتی تھی لیکن جو بھی کھاتی تھی وہ انتہائی نقصان دہ تھا۔ ان تمام کھانوں کی وجہ سے ایک وقت آیاکہ اس کا وزن 95کلوگرام ہوگیا لیکن پھر اس نے اپنے کھانوں پر توجہ دینی شروع کی اور صرف مفید کھانے کھانے پر توجہ دینے لگی۔صرف چار ماہ میں اس کا وزن 75کلوگرام ہوگیایعنی اس نے 20کلوگرام وزن کم کرلیا۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی پہلے اور اب کی عادات میں زمین آسمان کا فرق ہے یعنی وہ پہلے کم کھانا کھاتی تھی لیکن اس کا وزن بہت زیادہ تھا لیکن اب وہ زیادہ کھانا کھاتی ہے اور اس کا وزن کم ہے۔اس کا کہنا ہے کہ تمام اشیائ جو پہلے کھاتی تھی انتہائی خطرناک اور وزن میں بڑھنے کی وجہ بنتی تھیں لیکن اب تمام معاملہ الٹ ہوگیا ہے۔ پہلے اپنے کھانے کی روٹین بتاتے ہوئے ایما کا کہنا تھا کہ پہلے وہ ناشتہ نہیں کرتے تھی،دوپہر میں چاکلیٹ اور سنیکس کھایا کرتی تھی جبکہ رات کو وہ takeawayپر گزارا کرتی تھی اور اس دوران وہ بالکل ورزش نہیں کرتی تھی۔لیکن اب وہ ناشتہ میں دلیہ،دوپہر میں گھر کا بنا پاسٹا اور سلاد جبکہ رات کے کھانے میںوہ کوئی اچھی فرائی ہوئی چیز کھاتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ سنیکس میں وہ پھل، دہی اور کم حراروں والی چیزیں کھاتی ہے یعنی اب اس کی خوارک پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اب وہ ورزش بھی کرتی ہے اور جاگنگ،سوئمنگ اور واک کو ترجیح دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…