اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چینی کا زیادہ استعمال شوگر ہی نہیں بلکہ دوسری بیماریوں کا بھی باعث بنتا ہے

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چینی کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ ماہرین نے بھی بیماریوں سے محفوظ رہنے اور اچھی صحت کے لے چینی کے زیادہ استعمال سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے۔ہم اپنی روزمرہ خوراک میں غیرشعوری طورپرکافی ساری چینی معدے میں پہنچا دیتے ہیں اور ہمیں اس کے نقصانات کا ادراک بھی نہیں ہوتا مثلاً کولڈ ڈرنک کے کین میں تقریباً 7 چمچ چینی شامل ہوتی ہے جب کہ ایک بڑی بوتل میں چینی کی مقدار 44 چمچوں کے برابر ہوتی ہے اس کے علاوہ بھی چاکلیٹ،آئس کریم،کیک، ٹافیوں میں بھی چینی کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جن کے ذریعے ہمارے جسم میں شوگر کی اضافی مقدار شامل ہوجاتی ہے جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی میں کیلوریز پائی جاتی ہیں تاہم اس میں انسانی جسم کو درکار وٹامن اورمعدنی اجزائ شامل نہیں ہوتے اور جسم میں شوگر کی زیادتی سے موٹاپا،دانتوں کی بیماری اور ذیابطیس کے مسائل جنم لیتے ہیں جب کہ اس سے قوت مدافعت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جسم میں شوگر کی زیادتی سے کولیسٹرول لیول بھی متاثر ہوتا ہے اور بلڈ پریشر کے مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے ماہرین کا کہنا ہےکہ مرد کو دن میں زیادہ سے زیادہ 6 چائے کے چمچ استعمال کرنے چاہئیں جب کہ خواتین کے لئے 9 سے زیادہ چمچ نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے افراد جو جسم میں شوگرکی زیادتی کا شکار ہیں یا جو میٹھی اشیائ رغبت سے کھاتے ہیں

مزید پڑھئے:چین : بچن خاندان کی سنگاپور میں بھاری سرمایہ کاری

وہ چینی کے متبادل اشیائ مثلاً مصنوعی شکر کا استعمال کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف میٹھے کے ذائقے سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے بلکہ وہ کیلوریز نہ ہونے کے باعث صحت کے لئے بھی نقصان دہ نہیں ہوتیں اس طرح ذیابطیس اور موٹاپے جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ کر طویل عمر تک جوان رہا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…