بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

دل کے علاج میں ذہنی صحت پر توجہ ضروری

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے متاثرہ افراد میں ڈپریشن کی علاماتکےلئےسکریننگ لازمی قرار دی جائے اور ان کے نفسیاتی مسائل کے حل کےلیے ’کونسلنگ‘ بھی جائے۔یورپین سوسائٹی فار کارڈیالوجی میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ دل کی بیماری سے متاثرہ ایسے مریض جو ڈپریشن کا بھی شکار ہوں ان کا ایک سال کے اندر اندر مرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موت کا ایک اہم سبب بیماری کی شدت ہے اور اس کے ساتھ دیگر عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ڈپریشن کو کنٹرول میں رکھنا بھی ضروری ہے۔اس سلسلے میں کام کرنے والے خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ دل کے مریض ڈپریشن کو نظر انداز نہ کریں اور علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر جان کلیلینڈ جو امپیریل کالج لندن اور ہل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کے مطابق برطانیہ میں دل کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے اور ہر سال تقریباً 9 لاکھ افراد کو دل کا دورہ پڑتا ہے۔کسی بھی طویل مدتی جسمانی بیماری جیسے کہ امراضِ قلب سے متاثرہ افراد کے جسمانی اعلاج کے ساتھ ان کی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔جولی وارڈ پروفیسر کلیلینڈ کا کہنا تھا کہ نئی ادوایات اور طریقوں کے باوجود اس مرض کا علاج نہیں ڈھونڈا جا سکا ’اب تک ہم نے صرف ادویات، آلات، اور آپریشن کے طریقوں پر توجہ دی ہے، یہ کسی حد تک تو موثر ہیں مگر اتنے نہیں جتنا ہم چاہتے ہیں۔‘ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں دیگر عوامل کا بھی مشاہدہ کیا جائے۔‘واضع رہے کہ دل کا بیماری سے متاثرہ افراد کے دل کے پٹھے کمزور یا سخت ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے دل صحیح طریقے سے جسم کو خون فراہم نہیں کرسکتا اور مریض کو سانس لینے میں دشواری کے ساتھ تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔اس تحقیق کے سلسلے میں پروفیسر کلیلینڈ کی ٹیم نے 96 ہارٹ اٹیک کے مریضوں ایسے سوالات پوچھے جن سے پتہ چلایا جا سکے کہ آیا یہ مریض ڈپریشن کا شکار تو نہیں ہیں۔جن مریضوں میں ڈپریشن کی علامات تھیں ان میں ایک سال کے اندر مرنے کے زیادہ امکانات پائے گئے۔اگرچہ دل کی بیماری سے ڈپریشن کے تعلق کے بارے میں سائنسدان بخوبی واقف ہیں لیکن پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ صرف شدید ڈپریشن ہی دل کی بیماری کا سبب بنتا ہے مگر حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ معمولی ڈپریشن بھی دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔اگرچہ سائنسدان مانتے ہیں کہ ڈپریشن سے دل متاثر ہوتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ دیگر عوامل بھی اہم ہیں اور کچھ ایسے بھی مریض پائےگئے ہیں جن کی دل کی بیماری کی شدت تو ایک جیسی ہے لیکن وہ سب ڈپریشن سے متاثر نہیں ہیں۔محقیقین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔دوسری جانب برطانیہ میں دل کی بیماریوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے ایک خیراتی ادارے ’برٹش ہارٹ فاونڈیشن ‘ کی ترجمان جولی وارڈ نے کہا ہے کہ ’ ہم جانتے ہیں ڈپریشن دل کی ببیماری میں خطرے کا ایک عنصر ہے اور ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے افراد میں بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی طویل مدتی جسمانی بیماری جیسے کہ امراضِ قلب سے متاثرہ افراد کے جسمانی علاج کے ساتھ ان کی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…