ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

فرانس میں خوارک کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین لانے کافیصلہ

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)فرانس میں قومی سطح پر خوارک کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرا نے کافیصلہ کیاگیاہے ۔مجوزہ قانون کے تحت خوردہ فروش مارکیٹوں کے لیےضایع ہو جانے والی غیر فروخت شدہ غذائی اشیاءکو کوڑے دانوں میں پھینکنا قانوناً جرم ہوگا جبکہ نئے اقدامات کی رو سے سپر مارکیٹوں کو ضائع شدہ خوارک خیراتی اداروں کو عطیہ کرنا ہوں گی۔ نئی قانون سازی کے تحت فرانس کی حکومت نے سپرمارکیٹوں پرکھانے پینے کی اشیائ کو ضائع کرنے پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومت 2025 تک قومی سطح پر خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے اہداف پرکام کر رہی ہے اور یہ نئی حکمت عملی اس سلسلے میں کی جانے والی وسیع تر کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ فرانسیسی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر نئے قانون کی منظوری دی ہے،جس کا مقصد سپر مارکیٹوں کی اس مشق پر پابندی عائد کرنا ہے جس میں غیر فروخت شدہ خوارک کو اس لیے تباہ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ کھانے کے قابل نا رہ سکے۔فرانسیسی سوشلسٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیرخوارک گئیوم گیراٹ جنھوں نے مسودہ قانون تیار کیا ہے، نے کہا کہ ‘یہ تکلیف دہ بات ہے کہ سپر مارکیٹوں کے کچرا دانوں میں خوردنی خوراک کے ساتھ بلیچ ڈالا جارہا ہے۔’مجوزہ قوانین کا اطلاق 400 مربع میٹر اور اس سے زیادہ بڑی مارکیٹوں پر ہوگا جو آئندہ سال جولائی میں خیراتی اداروں کے ساتھ رسمی معاہدوں پر دستخط کرنے کی پابند ہوں گی۔علاوہ ازیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 75 ہزار یورو کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا یا پھر دو برس جیل کی سزا کاٹنی ہوگی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق فرانس میں ایک شخص ہر سال اوسطاً 20 سے 30کلو خوارک کوڑا دان میں پھینک دیتا ہے جس کی مشترکہ قومی لاگت لگ بھگ 20 ارب یورو سے زیادہ ہے۔نئے قوانین کے تحت اسکولوں اور کاروباری اداروں میں خوراک کے فضلے پر ایک تعلیمی پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا جبکہ فروری سے فرانس میں تازہ کھانوں پر سے استعمال کی تاریخ کو بھی ہٹا لیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…