اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کراچی ،نگلیریا نے ایک اورمریض کی جان لے لی

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کراچی میں نگلیریا نے ایک اورمریض کی جان لے لی جس کے بعد رواں سال نگلیریاسے مرنے والوں کی تعداد4ہوگئی ہے، دوسری جانب شہریوں کوفراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین شامل نہ کرنے کاانکشاف ہواہے۔تفصیلات کے مطابق جمعے کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ٹھٹھہ سے لائے گئے 43سالہ مریض سرفرازکوداخل کیاگیا جہاں اس کے ٹیسٹوں میں نگلیریاکے مرض کی تصدیق کی گئی سرفرازجمعے کواسپتال میں دم توڑگیا جس کے بعد اپریل سے مئی کے درمیاں نگلیریاسے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد4ہوگئی، کراچی میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کوشامل کیے جانے کے تمام دعوے دھرے رہ گئے ہیں۔گزشتہ ماہ اپریل میں کراچی کے ڈائریکٹرہیلتھ ڈاکٹر ظفر اعجاز اور محکمہ صحت نے واٹربورڈ حکام کو مکتوب بھی تحریرکیے تھے جس میں کہاگیاتھاکہ کراچی میں گرم موسم شروع ہوگیا ہے اوراس موسم میں نگلیریاکامرض شدت اختیارکرتا ہے لہٰذا واٹربورڈکے متعلقہ حکام پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارکویقینی بنانے کے لیے تمام تراقدامات کریں جس پرواٹربورڈحکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ کلورین کی مقدارکوشامل کیا جارہا ہے لیکن نگلیریاکے مرض سے ایک اورقیمتی جان لقمہ اجل بن گئی۔گزشتہ روز بھی نگلیریا کے حوالے سے محکمہ صحت میں اجلاس منعقدہواتھا جس میں کہاگیا تھا کہ نگلیریا سے بچاو¿ کے لیے واٹربورڈ، کے ایم سی، محکمہ صحت سمیت دیگر ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دیدی گئی جو شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کے کیمیائی تجزیے کرائیگی اورپانی میں کلورین کی مقدار کو چیک کریگی ،دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں ادارہ فراہمی ونکاسی آب کی جانب سے فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین شامل نہ کرنے کاانکشاف ہواہے یہ انکشاف جمعے کونگلیریا مشترکہ کنٹرول کمیٹی کے ایک رکن نے کیا۔نگلیریا مشترکہ کمیٹی کے بعض اراکان نے بتایاکہ ماہرین کی نگرانی میں ناظم آباد،گلشن اقبال، ریڑھ گوٹھ، لیاقت آباد سمیت دیگرعلاقوں سے مجموعی طورپر 46پانی کے نمونے حاصل کیے گئے اورپانی کے ان نمونوں کے کیمیائی تجزیے میں اس بات کا انکشاف ہواکہ 46نمونوں میں سے 33نمونوں میں کلورین شامل ہی نہیں جبکہ13پانی کے نمونوں میں کلورین کی مقدارشامل تھی۔محکمہ صحت کی بھی ایک ٹیم نے شہرکے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرلیے ہیں، پانی کے ان نمونوں کوکیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیاگیا ہے،دریں اثنا ماہرین طب نے کہاہے کہ نگلیریاسے محفوظ رہنے کے لیے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارشامل کرناضروری ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی میں گزشتہ کئی سال سے پانی میں جنم لینے والاجرثومہ مسلسل اموات کاباعث بن رہا ہے لیکن واٹربورڈ حکام کے کان پرجوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…