اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ذہنی دباﺅاور جگر کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے: تحقیق

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایک دس سالہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں میں پریشانی اور ڈپریشن ہے، ان کے لیے جگر کی بیماریوں سے مرنےکا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔برطانیہ کی ‘ایڈنبرا یونیورسٹی’ میں کلینکل فار برین سائنس سینٹر سے وابستہ تحقیق دانوں کے مطابق، یہ پہلی تحقیق ہےجس سے نفسیاتی مسائل اور جگر کی مختلف بیماریوں کےنتیجےمیں ہونے والی اموات کےدرمیان ممکنہ تعلق کی نشاندھی ہوئی ہے۔یہ بات ‘جرنل گیسٹروانیٹرو لوجی ‘میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ڈاکٹر ٹام رس کی ٹیم نے تحقیق کے لیے 165,000 لوگوں میں نفسیاتی تکالیف سے متعلق ایک سروے پر تفتیش کی، جس کے بعد محققین نے 10 سال تک شرکائ کی صحت کا جائزہ لیا اور اس دوران ہونے والی اموات کی وجوہات کا ریکارڈ تیار کیا۔نتائج سے وضاحت ہوئی کہ انفرادی طور پر جن شرکاءنے نفسیاتی علامات کے ساتھ زیادہ نمبر حاصل کئے تھے ان میں جگر کی بیماریوں سے مرنے کا امکان ان لوگوں سے زیادہ تھا جنھوں نے پریشانی اور ڈپریشن کے لیے کم نمبر حاصل کئے تھے۔محققین نے اپنی تحقیق میں سماجی اور اقتصادی عوامل کے علاوہ شراب نوشی، ذیا بیطس، موٹاپے کےحوالے سے بھی اعداد و شمار کو شامل کیا۔ اس کے باوجود، نتائج میں ذہنی دباو¿ اور جسمانی صحت کےنظام کےدرمیان واضح تعلق کا اشارہ تھا۔تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ٹام رس نے کہا کہ’یہ مطالعہ دماغ اور جسم کے درمیان اہم روابط کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتا ہے’۔انھوں نے مزید کہا کہ’نفسیاتی دباو¿ کےجسمانی صحت پر نقصان دہ اثرات ہیں۔ تاہم، ہم اس تعلق کی براہ راست وجہ اور اثر کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں ہیں لیکن یہ تحقیق مستقبل کے مطالعوں کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتی ہے’۔محققین نے کہا ہے کہ ایک پچھلے مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ پریشانی اور ذہنی دباو¿ سے دل کی بیماریوں کا خطرے بڑھتا ہے۔سائنسدان نے اس تعلق کی وضاحت میں دل کی بیماریوں کے خطرے کےعوامل مثلا ہائی بلڈپریشر اور موٹاپے کو جگر کی بیماری کی عام شکل یعنی فربہ جگر کی بیماری کے ساتھ منسلک کیا ہے۔محقق ٹام رس نے کہا ‘بالکل اسی طرح ذہنی دباو¿ جگر کی بیماریوں سےمرنے کے خطرے کےساتھ بالواسطہ طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…