بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

ذہنی دباﺅاور جگر کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے: تحقیق

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایک دس سالہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں میں پریشانی اور ڈپریشن ہے، ان کے لیے جگر کی بیماریوں سے مرنےکا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔برطانیہ کی ‘ایڈنبرا یونیورسٹی’ میں کلینکل فار برین سائنس سینٹر سے وابستہ تحقیق دانوں کے مطابق، یہ پہلی تحقیق ہےجس سے نفسیاتی مسائل اور جگر کی مختلف بیماریوں کےنتیجےمیں ہونے والی اموات کےدرمیان ممکنہ تعلق کی نشاندھی ہوئی ہے۔یہ بات ‘جرنل گیسٹروانیٹرو لوجی ‘میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ڈاکٹر ٹام رس کی ٹیم نے تحقیق کے لیے 165,000 لوگوں میں نفسیاتی تکالیف سے متعلق ایک سروے پر تفتیش کی، جس کے بعد محققین نے 10 سال تک شرکائ کی صحت کا جائزہ لیا اور اس دوران ہونے والی اموات کی وجوہات کا ریکارڈ تیار کیا۔نتائج سے وضاحت ہوئی کہ انفرادی طور پر جن شرکاءنے نفسیاتی علامات کے ساتھ زیادہ نمبر حاصل کئے تھے ان میں جگر کی بیماریوں سے مرنے کا امکان ان لوگوں سے زیادہ تھا جنھوں نے پریشانی اور ڈپریشن کے لیے کم نمبر حاصل کئے تھے۔محققین نے اپنی تحقیق میں سماجی اور اقتصادی عوامل کے علاوہ شراب نوشی، ذیا بیطس، موٹاپے کےحوالے سے بھی اعداد و شمار کو شامل کیا۔ اس کے باوجود، نتائج میں ذہنی دباو¿ اور جسمانی صحت کےنظام کےدرمیان واضح تعلق کا اشارہ تھا۔تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ٹام رس نے کہا کہ’یہ مطالعہ دماغ اور جسم کے درمیان اہم روابط کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتا ہے’۔انھوں نے مزید کہا کہ’نفسیاتی دباو¿ کےجسمانی صحت پر نقصان دہ اثرات ہیں۔ تاہم، ہم اس تعلق کی براہ راست وجہ اور اثر کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں ہیں لیکن یہ تحقیق مستقبل کے مطالعوں کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتی ہے’۔محققین نے کہا ہے کہ ایک پچھلے مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ پریشانی اور ذہنی دباو¿ سے دل کی بیماریوں کا خطرے بڑھتا ہے۔سائنسدان نے اس تعلق کی وضاحت میں دل کی بیماریوں کے خطرے کےعوامل مثلا ہائی بلڈپریشر اور موٹاپے کو جگر کی بیماری کی عام شکل یعنی فربہ جگر کی بیماری کے ساتھ منسلک کیا ہے۔محقق ٹام رس نے کہا ‘بالکل اسی طرح ذہنی دباو¿ جگر کی بیماریوں سےمرنے کے خطرے کےساتھ بالواسطہ طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…