اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

ملک میں 20 لاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)معروف ماہر اعصابی امراض ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہاہے کہ پاکستان میں 20 لاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں، مرگی قابل علاج ہے ،مریضوں کی کثیر تعداد علاج سے محروم رہتی ہے،پاکستان میں15200 مرگی کے مریضوں کے لیے صرف ایک نیورولوجسٹ ہے۔ڈاکٹرفوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر اس مرض کے علاج میں مہارت نہیں رکھتے ،یہ بات انہوں نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی)، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (ا ئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی میں عوامی ا گاہی پروگرام کے تحت ’’مرگی‘‘ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی لیکچر کا انعقادڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ اور ورچوئل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے ہوا ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہا عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرگی ایک سنجیدہ دماغی مسئلہ ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ اس کے خاندان اور پورے سماج پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔اس مرض کو پاکستان سمیت امریکاجیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی معاشرتی رسوائی کا سبب سمجھا جاتا ہے جو علم کی کمی اور مسئلے سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے ،انہوں نے کہا افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں 18کروڑ عوام کے لیے صرف 135 نیرولوجسٹ موجود ہیں مرگی کی درجنوں اقسام ہیں جن میں اکثر قابلِ علاج ہیں مگر عوام حقائق سے نابلد ہیں،معاشرے کے ناخواندہ اور جاہل افراد اس مرض کو سماجی ذلت سمجھ کرپوشیدہ رکھتے ہیں یا پھراس کے علاج کے لیے پیروں اور فقیروں کے پاس جاتے ہیں جو خلافِ عقل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…