اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ملک میں 20 لاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)معروف ماہر اعصابی امراض ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہاہے کہ پاکستان میں 20 لاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں، مرگی قابل علاج ہے ،مریضوں کی کثیر تعداد علاج سے محروم رہتی ہے،پاکستان میں15200 مرگی کے مریضوں کے لیے صرف ایک نیورولوجسٹ ہے۔ڈاکٹرفوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر اس مرض کے علاج میں مہارت نہیں رکھتے ،یہ بات انہوں نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی)، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (ا ئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی میں عوامی ا گاہی پروگرام کے تحت ’’مرگی‘‘ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی لیکچر کا انعقادڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ اور ورچوئل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے ہوا ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہا عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرگی ایک سنجیدہ دماغی مسئلہ ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ اس کے خاندان اور پورے سماج پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔اس مرض کو پاکستان سمیت امریکاجیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی معاشرتی رسوائی کا سبب سمجھا جاتا ہے جو علم کی کمی اور مسئلے سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے ،انہوں نے کہا افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں 18کروڑ عوام کے لیے صرف 135 نیرولوجسٹ موجود ہیں مرگی کی درجنوں اقسام ہیں جن میں اکثر قابلِ علاج ہیں مگر عوام حقائق سے نابلد ہیں،معاشرے کے ناخواندہ اور جاہل افراد اس مرض کو سماجی ذلت سمجھ کرپوشیدہ رکھتے ہیں یا پھراس کے علاج کے لیے پیروں اور فقیروں کے پاس جاتے ہیں جو خلافِ عقل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…