اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سانپ کے ڈسنے کی ویکسین تیار

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )حیدرآباد: انسٹیٹیوٹ آف بایو کیمسٹری جامعہ سندھ کے محققین نے سانپ کے ڈسنے کے بعد انسانی زندگی بچانے کیلئے ویکسین تیار کر لی ہے، انسٹیٹیوٹ کے سیرولاجی لیبارٹری میں سانپ کے ڈسنے کے بعد انسانی زندگی کو بچانے کے لیے تیارکردہ ویکسین کو اینٹی سنیک وینم (اے ایس وی) کا نام دیا گیا، آسٹریلوی سائنسدان شین ڈیلفائن نے مذکورہ لیبارٹری کا دورہ کیا اور معائنے کے بعد ویکسین کو نہایت موثر اور سانپ کے ڈسنے کے بعد انسانی زندگی بچانے کے لیے نہایت کارآمد قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر عابدہ طاہرانی کی جانب سے تحقیق پرزیادہ توجہ دینے کی پالیسی مرتب ہونے کے بعد انسٹیٹیوٹ آف بایو کیمسٹری جامعہ سندھ نے اپنی سیرولاجی لیبارٹری کے ذریعے سانپ کے ڈسنے کے بعد انسانی زندگی کے بچاو¿ کے لیے کامیاب ویکسین تیار کر لی، جس کو اینٹی سنیک ونیم (اے ایس وی) کا نام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میںپروجیکٹ ڈائریکٹر اے ایس وی لیبارٹری ڈاکٹر نعیم الحق قریشی کی دعوت پر آسٹریلیا کے اسٹریٹجک فنانشنل انالسٹ شین ڈیلفائین جامعہ سندھ مذکورہ لیبارٹری کا دورہ کیا اور تیارکردہ ویکسین کا معائنہ کیا، جس کے بعد انہوں نے ویکسین کو نہایت موثر قرار دیا۔ آسٹریلوی ماہرشین ڈیلفائین نے بعد میں وائس چانسلر آفیس پہنچ کر ڈاکٹر عابدہ طاہرانی سے ملاقات کی۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر طاہرانی نے کہا کہ جامعہ سندھ چندسالوں سے محکمہ صحت کی مدد کر رہی ہے اور انسانی صحت سے متعلق کچھ نہ کچھ نیا کر دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف بایو کیمسٹری میں جلد وینامولا جی ریسرچ لیبارٹری قائم کی جائے گی تاکہ سانپوں کے ڈسنے کے بچاو¿ کے لیے تیار ہونی والی ویکسین کی قیمت کم کر کے عوام کو رلیف فراہم کیا جائے۔ شیخ الجامعہ نے کہا کہ ملک کی دیہات کی علاقوں میں سانپ کے ڈسنے اور پاگل کتے کے کاٹنے کے مسائل عام ہیں، جس کا اب ہم سامنا کر سکتے ہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالرسول عباسی، ڈاکٹر اللہ بخش گھانگھرو، ڈاکٹر نعیم طارق ناریجو، ڈاکٹر محمد بخش بھرگڑی و دیگر بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…