اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چیچک کو شکست دینے والا ایڈورڈ کا 266 واں یوم پیدائش

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک )دنیا کو چیچک کی تباہ کاریوں سے بچانے کی راہ سجھانے اور موذی مرض کی پہلی ویکسین تیار کرنے والے ایڈورڈ جینر کا 266واں یوم پیدائش گزشتہ روز منایا گیا۔ کنگ جارج چہارم کے شاہی طبیب ایڈورڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ان کی تحقیقات کی مدد سے جس قدر افراد کی جانیں بچائی گئیں، اتنا طبی دنیا کی کسی دوسری تحقیق سے نہ بچائی جاسکیں۔ فادر آف امیونولوجی کے نام سے معروف ایڈورڈ نے اپنے تجربوں کیلئے اپنے مالی کے لڑکے کا انتخاب کیا تھا اور اس کے جسم میں چیچک کے جراثیم داخل کیئے تاہم ان کی ویکسین لینے کے سبب وہ بخار میں مبتلا تو ہوا مگر اسے دانے نہ نکلے۔ یہ وہ دور تھا جب ترکی کے طبیب ویکسینیشن کا طریقہ متعارف کرواچکے تھے تاہم اس سے وابستہ خطرات اور ویکسین کے طریقہ استعمال میں غلطی اسے زیادہ مقبول نہ بنا پارہی تھی۔ دوسری جانب چیچک کی وبا جب جب پھوٹتی اور بیس سے تیس فیصد کے قریب آبادی کا صفایا کرجاتی تھی، اسی لئے کچھ سائسندانوں نے چیچک کے خلاف ویکسین کی تیاری کے تجربے بھی کئے۔ امکان ہے کہ ایڈورڈ جینر نے خود سے قبل اسی قسم کے تجربے کرنے والے بنجامن جیسٹی کے کام کو ہی بنیاد بنایا کیونکہ انہوں نے چیچک سے ملتی جلتی گائے میں پائی جانے والی بیماری ”کاو¿ پاکس“ کے جراثیم کی مدد سے ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ جیسٹی نے یہ تجربہ اس وقت اپنی بیوی اور بیٹیوں پر کیا جب چیچک کی وبا عام ہوئی اور خوش قمستی سے ان کی بیوی اور بیٹیاں محفوظ رہیں۔ جیسٹی کا تجربہ تو کامیاب رہا تاہم اسے ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس مناسب دلائل نہ تھے۔ ادھر ایڈورڈ کے ذہن میں خیال آیا کہ چیچک کی وبا پھیلنے پر باڑوں میں کام کرنے والی عورتیں کبھی متاثر نہیں ہوتی ہیں، ایسے میں امکان یہی ہے کہ ان کے جسم میں گائے کے جراثیموں کی وجہ سے کوئی ایسا مدافعتی نظام پیدا ہوجاتا ہے جو کہ انہیں محفوظ رکھتا ہے، اسی خیال کے پیش نظر ایڈورڈ نے اپنی ویکسین تیار کی اور دنیا کو ایک موذی مرض کیخلاف مزاحمت کی ایک نئی راہ سجھا گیا۔ ایڈورڈ جینر کی محنت اور کوشش ان کی موت کے دو صدی بعد 1979میں رنگ لائی جب ڈبلیو ایچ او نے اعلان کیا کہ دنیا سے چیچک کا مکمل طور پر خاتمہ ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…