اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سائنس کا انسانی جسم بارے میں اہم انکشاف

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ہمارے معاشرے میں جنس پر بات کرنے کو ایک ایسا شجر ممنوعہ سمجھا ہے جس کے نزدیک جانے پر کسی کو بھی راندہ درگاہ قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ یہ ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ دوسری جانب سائنس اور علوم کی ترقی نے اس موضوع کو بھی اپنی گرفت میں لے کر حیران کن انکشافات کیے ہیں جو بلا شبہ بنی نوع انسان کے بیماریوں کے خلاف تحفظ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قارئین تک مستند سائنسی تحقیقات پر مبنی خبر ہی پہنچائیں تاکہ جہالت کے باعث پھیلنے والے توہمات اور غیر حقیقی معلومات کا موثر سد باب کیا جاسکے۔ زیر نظر خبر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک البینی کی تحقیق کے مطابق قدرت نے انسان کے عضو تناسل کی صورت گری میں جس مہارت سے کام لیا ہے، اس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ عضو نہ صرف مرد کے جنسی خلیوں کی منتقلی کا کام کرتا ہے بلکہ اپنی مخصوص ساخت کی بنا پر اگر وہاں پہلے سے کوئی خلیے موجود ہوں تو ان کا صفایا بھی کرتا ہے۔ یاد رکھیے کہ قدرتی طور پر تمام جانداروں میں اپنی نسل کے بقا ءاور تحفظ کے لیے جینیاتی کوڈ پایا جاتا ہے اور اس کی اعلیٰ ترین صورت قدرت نے انسان میں رکھی ہے۔ برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر عضو تناسل کا اگلا حصہ کسی حادثے یا بیماری کے باعث کٹ جائے یا کاٹنا ناگزیر ہو جائے تو بھی اس عضو کی فعالیت برقرار رہتی ہے۔ بعض اوقات کینسر جیسے موذی مرض کی وجہ سے مریضوں میں اس عضو کے اگلے حصے کو کاٹنا ضروری ہوجاتا ہے تاہم ایسے افراد بھی بعد ازاں معمول کی زندگی گذارنے کے قابل رہتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ معلوم کیا ہے کہ عام حالات میں جس شخص کا عضو بائیں طرف جھکا? رکھتا ہو، ان کے دماغ کا بایاں حصہ زیادہ فعال ہوتا ہے اور اسی طرح دائیں جانب جھکا? کے معنی یہ ہیں کہ مذکورہ شخص کے دماغ کا دایاں حصہ زیادہ فعال ہے۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ کے بائیں اور دائیں حصے الگ الگ امور سرانجام دیتے ہیں۔ بولنے کی صلاحیت، منطق اور ریاضی میں مہارت دماغ کے بائیں حصے کی رہین منت ہے اور دیکھنے کی صلاحیت کے ساتھ دوسرے افرادکو سمجھنے میں دایاں حصہ مہارت رکھتا ہے۔ کیلی فورنیا آکلینڈ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق مطابق ایسے افراد جنہیں ایستادگی کے مسائل کا سامنا ہے، ان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ بغیر ایستادگی بھی اس عضو سے جینیاتی خلیوں کی منتقلی کا کام لیا جاسکتا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی آف انڈیانا کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ جینیاتی مادے کے اخراج کی قوت جس قدر زیادہ ہوگی، اسی قدر مرد کا جنسی عمل کے متعلق اطمینان زیادہ ہوگا۔ فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق یہ کہتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران صرف آپ ہی نہیں بلکہ یہ عضو بھی مسکراتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق عام طور پر اس عمل کے لیے اختیار کی جانے والی پوزیشن ایسی ہوتی ہے کہ جس سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسکراہٹ نمایاں ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…