ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

جلد کی رنگت گہری کرنے کا شوق خاصا مہنگا پڑا

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) الباما سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹوینی ولوفبی کو اپنی جلد کی رنگت گہری کرنے کا شوق خاصا مہنگا پڑا اور تحفے میں انہیں جلد پر تاعمر باقی رہنے والے خوفناک نشانات دےگیا۔27سالہ ٹوینی اب فیس بک کے ذریعے اپنی کہانی دنیا کو بتانا چاہتی ہیں تاکہ دیگر خواتین اس معاملے میں محتاط رہیں۔ ٹوینی کو اپنی جلد کی رنگت گہری کرنے کا بچپن سے شوق تھا۔ اس کیلئے وہ ہفتے میں ایک سے دو بار ٹیننگ بیڈ پر رنگت گہری کرنے میں مددگار لوشن لگا کے لیٹ جاتی تھیں۔ مگر اس طرح گہری ہونے والی رنگت صرف کچھ دیر ہی باقی رہتی تھی جس کے بعد انہوں نے ہفتے میں پانچ بار ٹیننگ کی خاطر غسل آفتابی کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس وقت وہ ہائی سکول میں ہی تھیں۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا جو کہ آج کل کی نوجوان نسل کو عام بھگتنا پڑ رہا ہے۔21 برس کی عمر میں ٹوینی میں سکن کینسر کی تشخیص ہوچکی تھی۔ اس کے بعد سے علاج کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس دوران ہر وزٹ پر ڈاکٹر ان کی جلد سے کینسر کا سبب بننے والے خلیئے نکال دیتی ہے۔ ایسے وزٹ سال میں ایک سے دو بار ہوتے ہیں تاہم اب تک پانچ بار ان کے جسم میں بیسل سیل کینسر کی پانچ بار اور ایک بار ایک اور کینسر کی تشخیص ہوچکی ہے۔ یہ کینسر کی وہ اقسام ہیں جو عموماً مہلک تو نہیں ہوتی ہیں تاہم ان کے نتیجے میں چہرے کی ساخت ضرور بگڑ جاتی ہے۔رواں مہینہ یعنی کہ مئی جلد کے کینسر سے آگاہی کا مہینہ ہے اور اس مہینہ کو اپنے لئے نعمت سمجھتے ہوئے ٹوینی اپنی تصاویر کے ہمراہ فیس بک پر مختلف پوسٹس کررہی ہیں جس میں وہ نوجوانوں کو جلد کے کینسر کے ہولناک نتائج سے آگاہ کررہی ہیں۔ ٹوینی کاکہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے جسم پر ابھرنے والا ایسا زخم جو نہ بھرے اس کی جانچ کیلئے کینسر سپیشلسٹ کے پاس ضرور جانا چاہئے کیونکہ یہ کینسر بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ سکن کینسر دنیا میں جس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے سکن کینسر فاو¿نڈیشن نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں برس کے دوران صرف ٹوینی والی کینسر کی قسم کا 73ہزار سے زائد افراد شکار ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…