اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

زیادہ وزن والے افراد کےلئے ایک زبر دست پیشکش

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )موٹاپے سے پریشان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کہ محققین نے اس بیماری سے نجات پانے کا ایک آسان حل ڈھونڈ لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق پہاڑوں پر رہنے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ محققین نے سطح سمندر سے 124میٹر اور 456میٹر بلند جگہ پر رہنے والے لوگوں کا آپس میں موازنہ کیا۔
456میٹر بلندی پر رہنے والے لوگوں میں موٹاہونے کے شرح124میٹر بلندی پر رہنے والے لوگوں سے 13فیصد کم نکلی۔محققین کا کہنا ہے کہ بلندی پر رہنے سے لیپٹن نامی ہارمون کا اخراج زیادہ ہوتا ہے جس سے بھوک کم لگتی ہے،یہ ہارمون بھوک لگانے والے دیگر ہارمونز کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انسان کو بھوک کم لگے تو اس سے خوراک ہضم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی توانائی کی بچت ہو گی اور اس توانائی کی بچت سے آکسیجن کا استعمال کم ہو جائے گا۔ بلندی پر زندہ رہنے کے لیے اپنایا گیا یہ طریقہ کارقدیم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بلندی پر خوراک کی فراوانی نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…