اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

لال بیگ جراثیم پھیلاتے نہیں ختم کر تے ہیں: نئی تحقیق

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )جدید تحقیق نے لال بیگ کے ڈراونے اور گھناونے تصور کو غلط ثابت کردیاہے۔ ایک ریسرچ سے پتا چلا ہے کہ یہ بدنام کیڑا جراثیم پھیلاتا نہیں، بلکہ ا±نہیں ختم کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے،اور لال بیگ کی یہی صلاحیت اب انسانوں کے کام آنے والی ہے۔ لال بیگ زمین پر تیزی سے رینگے یا ہوا میں ا±ڑے، اسے دیکھتے ہی خواتین چیخنے لگتی ہیں اور مرد بے اختیار اسے فنا کے گھاٹ ا±تارنے کیلئے جھپٹ پڑتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ گٹروں اور نالیوں سے نکلنے والے لال بیگ کو خطرناک جراثیم اور جان لیوا بیماریاں پھیلانے والا کیڑا سمجھا جاتا ہے ،لیکن اب لال بیگوں سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آنیوالے چند سالوں میں یہ کئی بیماریوں کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور ممکن ہے، آپ کو بعض ایسی دوائیں پینی پڑیں جو لال بیگ سے حاصل کئے گئے اینٹی بیکٹیریل مالیکیول سے تیار کی گئی۔20 سال سے برطانیہ اور امریکا میں تحقیق کرنیوالے ڈاکٹر نوید احمد خان نے لال بیگوں پر تحقیق کر کے ایک دلچسپ انکشاف سامنے لائے ہیں۔ ڈاکٹر نوید احمد خان کا کہنا ہے کہ صاف ماحول میں افزائش پانے والے لال بیگ کے دماغ میں 9 اینٹی بیکٹیریل مالیکیول ملے ہیں جبکہ گندگی میں پائے جانے والے لال بیگ کے دماغ میں ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔طبی ماہر کا کہنا ہے کہ کیمیکل کی تیاری کے بعد اس تحقیق کو دیگر جانوروں اور پھر انسانوں پر بھی آزمایا جائیگا، اس دوا کو مارکیٹ میں آئندہ 5سے 7برس میں متعارف کرایا جائیگا۔کامیاب تحقیق کے بعد طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں موثر اینٹی بائیو ٹکس کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ان جانداروں پر کام کیا جاسکتا ہے جن کا مدافعاتی نظام فطری طور پر مظبوط ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…