لندن(نیوزڈیسک) ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایبولا وائرس سے بچ جانے والے شخص کی آنکھوں میں یہ جان لیوا وائرس کئی ماہ تک موجود ہوتا ہے۔نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق کے مطابق افریقی ملک سیرا لیون میں ایبولا کی روک تھام کے لئے کام کرنے والا ڈاکٹر جب خود اس وائرس سے متاثر ہوا تو اسے علاج کے لئے فوری طور امریکا بھیج دیا گیا جہاں 40 روز تک وہ زیر علاج رہا۔ اسپتال سے فارغ ہونے کے 2 ماہ بعد جب اس ڈاکٹر کی آنکھوں کا ٹیسٹ لیا گیا تو اس وقت بھی اس میں ایبولا وائرس کے اثرات پائے گئے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایبولا وائرس سے نجات پانے والے شخص کی آنکھ سے نکلنے والے آنسوو¿ں اور آنکھ کی ڈھیلے سے جان لیوا وائرس کی تشخیص کے باوجود یہ وائرس خطرناک نہیں ہوتا لیکن اس کا تدارک ضروری ہے۔ دوسری جانب امریکا کی اموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر اسٹیون یہہ کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے بچ جانے والے افراد کو اس کے اثرات سے بچنے کے لئے مسلسل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ایبولا کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں افریقی ملک سیرا لیون، گنی اور نائجر میں ہوئیں۔
صحتیابی کے بعد بھی ایبولا وائرس متاثرہ شخص کا پیچھا نہیں چھوڑتا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پاکستان کا المیہ
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
-
دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی عالمی رپورٹ سامنے آگئی
-
توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کیس؛ ریحان طارق کے حق میں علماء کے فتوے پیش کردیئے گئے



















































