ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

عالمی ادارہ صحت :بیماریوں کے نا م رکھنے میں احتیا ط برتیں

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے نام ایسے رکھیں جائیں جو سماجی طور پر قابلِ قبول ہوں اور ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے جن سے کسی ملک، کسی فرد کی توہین ہو اور نہ ہی ناموں میں جانوروں کا ذکر ہو۔ادارے نے بیماریوں کے نام منتخب کرنے کے حوالے سے سائنسدانوں اور میڈیا کے لیے چند ہدایات جاری کی ہیں۔مشرق وسطیٰ سانس کی بیماری‘ اور ’ہسپانوی زکام‘ جیسی بیماریوں کی مثال دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان ناموں میں مخصوص مقامات کا ذکر ہے۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق عام اصلاحات پر مشتمل آسان نام رکھے جائیں۔ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں کئی نئی انسانی بیماری سامنے آئی ہیں جن کے ناموں کی وجہ سے کچھ مخصوص ثقافتوں، علاقوں اور معیشتوں کی بدنامی ہوئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے ہیلتھ سکیورٹی ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا کہنا ہے کہ ’ بظاہر یہ ایک معمولی مسئلہ لگتا ہے لیکن بیماریوں کے نام سے براہ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔‘ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا مزید کہنا ہے کہ کچھ بیماریوں کے ناموں کی وجہ سے مخصوص مذہبی اور نسلی گروہوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ان کی وجہ سے سفری مشکلات کے علاوہ تجارتی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جانوروں کی غیرضروری تلفی کی وجہ بھی یہ نام بنے ہیں۔’ان سے لوگوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں‘ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق نئی انسانی بیماریوں کے نام سادہ اور چھوٹے رکھے جائیں اور بڑے اور پیچیدہ نام رکھنے سے پہلے ہدایات کو محلوظِ خاطر رکھا جائے۔ادارے نے کہا ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں جن سے خوف پھیلے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…