اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

آ پ جانتے ہیں ،ناخن اور بغلو ں کے بالوں کے کیا فائدے ہیں ؟

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )خدا نے کوئی چیز بلا وجہ نہیں بنائی اور ہمارے جسم میں ہر حصے کا کوئی نہ کوئی کام ضرور ہے۔بغلوں کے بال اور انگلیوں کے ناخن بظاہر اضافی چیز لگتے ہیں لیکن ان کا کام بھی بہت اہم ہے۔آئیے آپ کو ان کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔
بغلوں کے بال
بظاہر فضول نظر آنے والے یہ بال اصل میں انسان کی انفرادی خوشبو کاتعین کرتے ہیں جس سے مخالف جنس آپ کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بغلوںکے بال ہمارے پسینے کے گلینڈز کے اوپر اگتے ہیں جس کی وجہ سے جب ہمیں پسینہ آتا ہے تو ان بالوں کی وجہ سے ہمارے جسم کی ایک انفرادی خوشبو یا بدبو پیدا ہوتی ہے اور مخالف جنس ہماری جانب مائل ہوتی ہے۔
انگلیوں کے ناخن
ویسے خواتین کے لئے انگلیوں کے ناخن بہت ہی زیادہ اہم ہیں کہ وہ ان پر نیل پالش لگا کر ہاتھوں کی خوبصورتی بڑھاتی ہیں لیکن فیشن کے علاوہ ہم ان کی وجہ سے اشیائ کو صحیح طرح سے پکڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ ہمیں صحت کا حال بھی بتاتے ہیں۔ اگر جسم میں کسی بھی چیز مثلاًآئرن، کیلشیم، خون کی کمی پیدا ہوجائے تو وہ اس کا علم ناخنوںکی رنگت دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…