اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا موٹاپے کے ساتھ جگر کی خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اسپین کے انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ میڈیسن کی تحقیق کے مطابق حد سے زیادہ کھانا جہاں موٹاپے کا باعث ہوتا ہے وہیں جگر پر بھی اس کے منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں جو جگر کی کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق جب ہماری خوراک میں موجود گلوکوز جسم کے استعمال میں نہیں اتے تو خون میں شامل ہو کر جسم کو توانائی فراہم کرنے والے ’گلائیکوجن‘ کی صورت میں جگر میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور حد سے زیادہ خوراک کے استعمال سے یہ گلائیکوجن زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں اور ٹھیک سے اپنا کام نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے جگر کی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔محقیقین کا کہنا ہے کہ جگر کو فعال رکھنے کے لئے زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا چاہئیے کیونکہ جن لوگوں کی خوراک مناسب ہوتی ہے ان کا جگر زیادہ خوارک استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے اور ان افراد میں بیماریاں بھی کم جنم لیتی ہیں۔
زیادہ کھانا مو ٹاپے کے ساتھ جگر کے لیے بھی نقصان دہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کی سب سے بڑی کام یابی
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
پی ڈی ایم نے بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری کر دیا
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
والدین گھربیٹھے ب فارم بنوا سکیں گے، نادرا نے نئے ضابطے بنا دیئے



















































