اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

قدرتی غذائیں ذیابطیس پرقابوپانے میں معاﺅن

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک )ایک جدید طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ مخصوص قدرتی غذاوں کا استعمال ذیا بطیس پر قابو پایا جا سکتا ہے یہ طریقہ سستا اور قدرتی ہے۔امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اپنی روزمرہ کے معمولات میں کچھ مثبت تبدیلیاں لا کر ہی آپ ذیابطیس سے ہوئے نقصان کی تلافی کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں ، آپ بلا خوف و خطرکچھ بھی کھانے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور ایک صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

ریشے دار غذائیں۔ خون میں گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرتی ہیں ، روزانہ بیج ،سبزیاں اور ناشپاتی کا استعمال فائدے مند ہو سکتا ہے۔
کرومیم نامی دھاتی عنصر جن غذاوں میں مثلا بروکولی [شاخ گوبھی ] ،پنیر ، ہری پھلیاں ، یا لوبیا ان غذاوں کا استعمال بھی خون میں گلوکوز کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے جب کہ مذکورہ غذاوں میں کرومیم کی ایک بڑی مقدار شاخ گوبھی میں موجود ہوتی ہے۔
سمندری یا دریائی مچھلی: اس میں موجود امیگا تھری بھی کسی حد تک خون میں بڑھے ہوئے گلوکوز کے اثرات پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
ناریل یا سرخ پام آئل: Medium-Chain Fatty Acid یا MCFA جن غذاوں کا جز ہوں مثلا ناریل یا سرخ پام آئل تو ایسی خوراک بھی خون مِں شکر کی مقدار کو کم رکھنے میں کارگر ثابت ہوتی ہیں اور شکر کے متبادل کے طور پر خوراک کے طور پر استعمال میں لاکر انسانی جسم کی شکر کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…