اسلام آباد (نیو ز ڈیسک ) دنیا بھر میں امیری اور غریبی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بچوں کی شرح اموات پر بھی منفی اثرات پیدا کررہا ہے اور غریب ممالک کے بچوں میں امیر ممالک کے بچوں کی نسبت دوگنا اموات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اس امر کا انکشاف ”سیو دی چلڈرن“ نامی ایک این جی او کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ہوا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق غریب ممالک میں ماں اور بچے کی صحت کیلئے وہ سہولیات دستیاب نہیں جو کہ امیر ممالک میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں ماو¿ں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق رہتے ہیں اور بچوں کو بچاناتو بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اس تحقیق کیلئے 179ممالک سے اعداد و شمار اکھٹا کئے گئے تھے اور ان میں معلوم ہوا کہ 36ترقی پذیر ممالک میں سے دو تہائی ممالک کے شہری بچوں میں امیر ممالک کے شہری بچوں کے مقابلے میں مرنے کے امکانات دوگنا سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سیو دی چلڈرن ہر برس دنیا بھر میں بچوں کی صحت و مسائل اور ان کی معاشی حالت کا جائزہ لیتی ہے اور بچوں کی بہتر یا خراب حالت کے اعتبار سے دنیا کے ممالک کی درجہ بندی کرتی ہے۔ رواں برس کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں شہری ماحول میں پیدا ہونے والے بچوں کے بچنے کے امکانات دیہی ماحول میں پرورش پانے والے بچوں سے کہیں زیادہ تھے۔ سروے کنندہ ادارے نے ان اعداد و شمار کو پوری طرح قبول نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری ماحول میں پرورش پانے والے بچوں کی شرح اموات میں کمی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے والدین اپنی دولت خرچ کرتے ہوئے بچوں کی جان بچانے پر زیادہ رقم خرچ کرسکتے ہیں۔اس رپورٹ میں جن ممالک میں بچوں کی زندگی کیلئے جن ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا، ان میں بنگلہ دیش، کمبوڈیا، گھانا، کینیا، بھارت، مڈغاسکر، نائجیریا،پیرو، روانڈا اور ویتنام شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہروں میں بچوں کی زندگی کو ان کے ہم پلہ دیگر ممالک کے بچوں کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ واشنگٹن شہر کے وہ حصے جنہیں معاشی لحاظ سے دوسرے حصوں کی نسبت غریب تصور کیا جاتا ہے، وہاں بچوں کے مرنے کے امکانات دس گنا تک زیادہ ہیں۔ اس رپورٹ میں 25امیر ترین ممالک کے دارالحکومتوں کی سہولیات اور بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے درجہ بندی کی گئی تھی اور اس سے معلوم ہوا کہ واشنگٹن اس فہرست میں سب سے نچلے درجے پر موجود ہے۔ اس فہرست میں بچوں کی زندگی کیلئے پراگ کو بہترین قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ سٹاک ہوم، اوسلو، ٹوکیو اور لزبن بھی انہی شہروں میں شامل تھے جنہیں بچوں کی زندگی کے حوالے سے بہتر قرار دیا گیا۔ مجموعی طور پر اس فہرست میں بچوں کی زندگی کے حوالے سے ناروے کو سرفہرست قرار دیا گیا۔دوسرے اور تیسرے نمبر پر فن لینڈ اور آئس لینڈ رہے۔ ڈنمارک اور سوئیڈن چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔ اگلا نمبر ہالینڈ کا ہے۔ ساتواں بہترین ملک سپین جبکہ آٹھواں جرمنی رہا۔ ٹاپ ٹین پوزیشنز میں آخری دو پوزیشنز آسٹریلیا اوربیلجیئم کی بتائی گئی ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ امریکہ صحت کے حوالے سے سہولیات میں سربیا یا بوسنیا کے ہم پلہ بتایا گیا ہے۔
غریب ممالک میں بچوں کی شرح اموات میں دو گنا اضافہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل



















































