ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

محکمہ صحت:بچوں کو آنول کاٹنے کا طریقہ بدلنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پچاس کی دہائی سے دنیا بھر اور خاص کر برطانیہ مین دائیوں کو بچوں کی پیدائش کے فوری بعد چند سیکنڈزکے اندر اندر آنول کاٹنے کا طریقہ سکھایا جاتا تھا تاہم اب محکمہ صحت نے جدید تحقیقات کی روشنی میں حکم دیا ہے کہ اس طریقے کو تبدیل کیا جائے اور کم از کم بھی ایک منٹ تک انتظار کیا جائے، جس کے بعد بچے کی آنول کو اس کے جسم سے علیحدہ کیا جائے۔ اس طریقے کے بدلنے سے برطانیہ کی ایک عمر رسیدہ دائی امانڈا برلیف بے حد خوش ہیں۔ امانڈا کا ماننا تھا کہ ماضی میں آنول کو فوری طور پر کاٹنے کی ہدایت اس لئے دی جاتی تھی کہ ماں کو دی جانے والی ہارمونز پر مبنی ادویات بچوں کے دوران خون میں شامل ہوکے صحت کے مسائل نہ پیدا کریں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب ان ادویات کو محفوظ ادویات سے بدل دیا گیا تو امانڈا کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا اس طریقے کو جاری رکھا جاناچا ہئے یا آنول کاٹنے کے اس طریقے کو بھی بدل ڈالنے کی ضرورت ہے۔ امانڈا اس کیلئے گزشتہ دس برس سے جدوجہد کررہی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آنول کو فوراً کاٹ ڈالنے کا عمل جبکہ اس میں ابھی جان باقی ہوتی ہے، دراصل بچے کو پلیسینٹا سے موصول ہونے والے اہم سیلز اور غذائی اجزائ سے محروم کردیتا ہے۔ امانڈا نے اپنے یہ خیالات جب اپنے ساتھیوں کے سامنے دوہرائے تو اسے کہا گیا کہ اسے اپنے خیالات کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس دلائل کی ضرورت ہوگی اور خوش قسمتی سے برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم یہ جاننے میں کامیاب رہی کہ آنول کو فوری طور پر کاٹ ڈالنے سے بچے کو اس کے اپنے جما شدہ خون کے ایک تہائی حصے سے محروم کیا جاسکتا ہے نیز آئرن کی کمی سے ہونے والے اینیمیا کا بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے جو کہ بچے میں سیکھنے کے عمل کو سست بنا سکتا ہے۔ اب برلیف اور ان کے ساتھیوں کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور برطانوی قومی ادارہ برائے صحت نے اپنے نئے ہدایت نامے میں حکم جاری کیا ہے کہ ڈاکٹر اور دائیاں بچے کی آنول پیدائش کے ایک منٹ کے اندر اندر آنول کو مت کاٹیں اور ایک سے پانچ منٹ تک کے بیچ انتظار کے بعد اسے کاٹیں یا پھر اس مدت کے بعد ماں کی رضامندی سے اسے کاٹیں۔ برلیف کو حال ہی میں برٹش جرنل آف مڈوائفری کی جانب سے مڈوائف آف دی ایئر قرار دیا گیا ہے۔ برلیف خوش ہیں کہ برطانوی ادارہ صحت نے آخر کار ان کے دعوے کو سچ مان لیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ عام مشاہدے پر مبنی تھا جسے بھانپنا کسی بھی عام ذی شعورکیلئے ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…