اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دینا کے امیر ممالک کے مقابلے میں امریکہ میں خواتین کا بچے کی پیدائش کے دوران مرنے کا زیادہ امکان

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک) بچوں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دا چلڈرن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دیگر امیر ممالک کے مقابلے میں امریکہ میں خواتین کا بچے کی پیدائش کے دوران مرنے کا زیادہ امکان ہے۔سیو دا چلڈرن کی دنیا میں ماو ¿ں کی حالت زار 2015 کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک امریکی خاتون کا حمل یا زچگی کے دوران مرنے کا امکان آسٹریا، پولینڈ یا بیلاروس کی خواتین کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔آرگنائزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے مطابق دنیا کے امیر ترین ممالک میں امریکہ کا چوتھا نمبر ہے تاہم سیو دا چلڈرن کی رپورٹ میں اس کا نمبر مجموعی طور پر 33 ویں نمبر پر ہے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں دو درجے نیچے ہے۔سیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں ماو ¿ں کی صحت، بچپن میں شرح اموات، تعلیم، معیشت اور حکومتی معاملات میں خواتین کی شرکت کے بارے میں ڈیٹا کا استعمال کیا واشنگٹن ڈی سی کا شمار دنیا کے 25 امیر ترین ممالک کے دارالحکومتوں میں سے ایک میں ہوتا ہے تاہم وہاں سب سے زیادہ بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔سیو دا چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں 2013 کے دوران 1000 پیدا ہونے والے بچوں میں سے صرف 6.6 بچوں کی موت واقع ہوئی تاہم سٹاک ہوم اور ٹوکیو میں شرح اموات کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی تین گنا زیادہ ہے۔بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق امریکی دارالحکومت کے امیر ترین علاقوں کے مقابلے میں غریب ترین علاقوں میں رہنے والے بچوں کا اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرنے کا امکان دس گنا زیادہ تھا۔سیو دا چلڈرن نے آبادی میں تیزی سے اضافے کے طور پر دنیا کے بڑے شہروں میں امیر اور غریب کے درمیان صحت کی تقسیم پر زور دیا ہے بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کمپالا اور ادیس ابابا سمیت دیگر دارالحکومتوں میں ماں اور بچے کی شرح اموات کو کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی ۔زیادہ تر ممالک میں غریب شہری بچوں کا امیر بچوں کے مقابلے میں مرنے کا تین سے پانچ گنا زیادہ امکان پایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…