اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

مالی دباﺅ دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک )وہ لمحہ ہم میں سے بیشتر افراد کو دہشت زدہ کردیتا ہے یعنی مہینے کے وہ عرصہ جب یوٹیلیٹی بلوں کی گھر میں آمد ہوتی ہے جس کو دیکھ کر دل کی دھڑکن اور نبض تیز ہوجاتی ہے اور اب یہ خطرہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ تناﺅدل کے دورے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سننے میں چاہے ڈرامائی لگے مگر کسی فرد کی مالی صورتحال اور اس پر بلوں کا تناﺅ اچانک دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔تحقیق میں ایسی خواتین کو خاص طور پر انتباہ کیا گیا ہے جنھیں ماضی میں مالی مشکلات کا سامنا رہا ہو کیونکہ ان میں دل کے دورے کا امکان مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔حقیقتی ٹیم نے زندگی کے ایسے واقعات کو جاننے کی کوشش کی جو کسی فرد کے دل کی صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی موت یا زندگی کو خطرے میں ڈال دینے والی بیماری خواتین میں دل کے دورے کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔تاہم محققین نے زیادہ توجہ ذہنی تناﺅکے دل پر مرتب ہونے والے اثرات پر مرکوز کی جس کے بعد معلوم ہوا کہ کم آمدنی والے گھرانون کے باسی دل کے دورے کا آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں۔محقق ڈاکٹر مچل البرٹ کے مطابق زندگی کے منفی واقعات ہر فرد کی صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں خاص طور خواتین کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور مالی مشکلات یا کسی بھاری بل کو دیکھ کر دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…