بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مشروبات میں شکرکی زیادہ مقداردل کی بیماریوں کے لیے خطرناک قرار

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک )امریکی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مشروبات میں فروکٹس (شکرکی ایک قسم) کی زیادہ مقدار دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔سائنسی جریدے ‘امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مشروبات میں فروکٹس کی مقدارزیادہ ہونے کے باعث دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ڈیوس سے منسلک محقق کیمبراسٹین ہوپ کہتی ہیں کہ مشروبات میں شکر کی اضافی مقداراورصحت کے ممکنہ سنگین نتائج کے درمیان براہ راست تعلق ہوتا ہے اور فروکٹس والے مشروبات سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب برطانوی ماہرغذائیت زوئی ہارکومب کا کہنا ہے کہ شکر کا غذا کے طورپربے جا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضرہے جب کہ شکر کا زیادہ استعمال کرنے والے غذائی اجزائ سے محرومی کے ساتھ ساتھ موٹا پے کا شکاربھی ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فروکٹس والے مشروبات کے صرف 2 ہفتے کے استعمال سے ہی دل کی بیماریاں پیدا ہونے کے خطراب بڑھ جاتے ہیں۔آسٹریلین ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مشروبات کے استعمال سے نوجوانوں میں سست روی اور یاداشت کمزور ہونے کے امکابات بڑھ جاتے ہیں جب کہ امریکی سائنسدانوں کے مطابق شکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال ذہنی تناو کا باعث بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…