اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

کم سنی میں روغنی غذا کا استعمال بریسٹ کے کینسر کا باعث

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |
Close up of pink badge on woman chest to support breat cancer cause, PS: you can change the ribbon color to red to support AIDS cause as both using same symbol

اسلام آ باد (نیو ز ڈیسک )بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے، ایک خاص سٹیج کے بعد یہ مرض ناقابل علاج ہو جاتا ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں علم ہونے پر بھی چھاتیوں سے محرومی ہی اس کا واحد علاج ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ موٹاپا بریسٹ کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے تاہم ماہرین نے پتہ لگایا ہے کہ کم عمری میں استعمال کی گئی چکنائی والی اور روغنی خوراک بھی بڑی میں جا کر بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سنی میں احتیاط سے بعد کی زندگی میں اس موذی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں چھاتی کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کر سکتی ہیں۔ اس بارے میں امریکا کی مشیگن یونیورسٹی کے مححقیقن نے ریسرچ کی ہے اور ا±ن کا کہنا ہے کہ کم سنی میں روغنی غذا کے استعمال سے پرہیز کرنے والی لڑکیوں میں آگے چل کر بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے خطرات کافی کم ہو سکتے ہیں۔ مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے یہ تجربہ چوہوں پر کیا۔ تین ہفتے تک ان چوہوں کو ہائی فَیٹ ڈائیٹ یا چربی سے بھرپور غذا دی گئی، جس کے بعد سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ان چوہوں کی چھاتیوں کی ساخت میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔ نیز ان کے امیون سیلز یا مدافعتی خلیوں کی نشو و نما میں اضافہ اور تبدیلی ظاہر ہونے لگی۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ خلیوں کی یہ تبدیلیاں دائمی ہوتی ہیں اور یہ بظاہر بے ضرر ماہیت پر مبنی یہ تبدیلیاں کچھ عرصے بعد چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتی ہیں۔
سیچوریٹڈ فَیٹ یا ایسی چربی یا روغن جو ٹرائی گلیسرائیڈ پر مشتمل ہو، چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتا ہے۔ ٹرائی گلیسرائیڈ دراصل گلیسرول اور تین تیزابی اصلیوں سے تیار شدہ چربی ہوتی ہے، جو تیل اور گھی وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ جانوروں سے حاصل کردہ سیچوریٹیڈ فَیٹ مکھن، گھی، پنیر، چربی کے حامل گوشت، ناریل کے تیل اور روغن تاڑ میں پایا جاتا ہے۔ محققین نے ایک مزید تشویشناک انکشاف یہ کیا ہے کہ سیچوریٹیڈ فَیٹ سے بھرپور غذا سرطان زا رسولیوں یا ٹیومرز میں ایک مخصوص قسم کے جین کی موجودگی کا سبب بنتی ہے۔ یہ ٹیومرز سرطان کی مختلف اقسام پر مشتمل ایک چھوٹے اور خاص قسم کے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، جنہیں ’بیسل ٹائپ‘ یا ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ اس تحقیقی عمل میں شامل محققہ سوزن جی کومن کے مطابق امریکا میں چھاتی کے کینسر کی اقسام میں 15 سے 20 فیصد ’بیسل ٹائپ‘ کینسر ہے، جو زیادہ تر کم عمر خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اس سے بچاﺅ کے لئے سب سے اہم تدبیر یہی قرار دی گئی ہے کہ بہت چھوٹی عمر سے صحت مند طرز زندگی اور صحت مند خوراک کا استعمال کیا جائے۔ ماہرین اس سلسلے میں آرگینک فوڈ پر تجربات کر رہے ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ اس قسم کی خوراک کے مسلسل استعمال سے بریسٹ کینسر سے بچنا کس حد تک ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…