پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

کم سنی میں روغنی غذا کا استعمال بریسٹ کے کینسر کا باعث

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |
Close up of pink badge on woman chest to support breat cancer cause, PS: you can change the ribbon color to red to support AIDS cause as both using same symbol

اسلام آ باد (نیو ز ڈیسک )بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے، ایک خاص سٹیج کے بعد یہ مرض ناقابل علاج ہو جاتا ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں علم ہونے پر بھی چھاتیوں سے محرومی ہی اس کا واحد علاج ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ موٹاپا بریسٹ کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے تاہم ماہرین نے پتہ لگایا ہے کہ کم عمری میں استعمال کی گئی چکنائی والی اور روغنی خوراک بھی بڑی میں جا کر بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سنی میں احتیاط سے بعد کی زندگی میں اس موذی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں چھاتی کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کر سکتی ہیں۔ اس بارے میں امریکا کی مشیگن یونیورسٹی کے مححقیقن نے ریسرچ کی ہے اور ا±ن کا کہنا ہے کہ کم سنی میں روغنی غذا کے استعمال سے پرہیز کرنے والی لڑکیوں میں آگے چل کر بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے خطرات کافی کم ہو سکتے ہیں۔ مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے یہ تجربہ چوہوں پر کیا۔ تین ہفتے تک ان چوہوں کو ہائی فَیٹ ڈائیٹ یا چربی سے بھرپور غذا دی گئی، جس کے بعد سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ان چوہوں کی چھاتیوں کی ساخت میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔ نیز ان کے امیون سیلز یا مدافعتی خلیوں کی نشو و نما میں اضافہ اور تبدیلی ظاہر ہونے لگی۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ خلیوں کی یہ تبدیلیاں دائمی ہوتی ہیں اور یہ بظاہر بے ضرر ماہیت پر مبنی یہ تبدیلیاں کچھ عرصے بعد چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتی ہیں۔
سیچوریٹڈ فَیٹ یا ایسی چربی یا روغن جو ٹرائی گلیسرائیڈ پر مشتمل ہو، چھاتی کے سرطان کا موجب بن سکتا ہے۔ ٹرائی گلیسرائیڈ دراصل گلیسرول اور تین تیزابی اصلیوں سے تیار شدہ چربی ہوتی ہے، جو تیل اور گھی وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ جانوروں سے حاصل کردہ سیچوریٹیڈ فَیٹ مکھن، گھی، پنیر، چربی کے حامل گوشت، ناریل کے تیل اور روغن تاڑ میں پایا جاتا ہے۔ محققین نے ایک مزید تشویشناک انکشاف یہ کیا ہے کہ سیچوریٹیڈ فَیٹ سے بھرپور غذا سرطان زا رسولیوں یا ٹیومرز میں ایک مخصوص قسم کے جین کی موجودگی کا سبب بنتی ہے۔ یہ ٹیومرز سرطان کی مختلف اقسام پر مشتمل ایک چھوٹے اور خاص قسم کے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، جنہیں ’بیسل ٹائپ‘ یا ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ اس تحقیقی عمل میں شامل محققہ سوزن جی کومن کے مطابق امریکا میں چھاتی کے کینسر کی اقسام میں 15 سے 20 فیصد ’بیسل ٹائپ‘ کینسر ہے، جو زیادہ تر کم عمر خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اس سے بچاﺅ کے لئے سب سے اہم تدبیر یہی قرار دی گئی ہے کہ بہت چھوٹی عمر سے صحت مند طرز زندگی اور صحت مند خوراک کا استعمال کیا جائے۔ ماہرین اس سلسلے میں آرگینک فوڈ پر تجربات کر رہے ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ اس قسم کی خوراک کے مسلسل استعمال سے بریسٹ کینسر سے بچنا کس حد تک ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…