بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

ایچ آئی وی کا ٹیسٹ گھر بیٹھے کر وائیے

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )برطانیہ میں گھر بیٹھے ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرنے والی قانونی طور پر منظور شدہ کِٹ کی فروخت شروع ہو گئی ہے۔ اس کِٹ سے جو اب خریدنے کے لیے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں دستیاب ہے پندرہ منٹ کے اندر پتہ چل سکتا ہے کہ ٹیسٹ کرنے والے کو انفیکشن ہے یا نہیں۔دوسری کِٹس کے برعکس، حتمی نتیجہ جاننے کے لیے قانونی طور پر منظور شدہ نئے آلات سے کیے گئے ٹیسٹوں کو لیبارٹری بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔یہ کِٹ خون کے چھوٹے سے قطرے پر موجود ان مادوں کو بھانپ لیتی ہے جو بدن میں زہریلے جراثیم کا توڑ کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ ان مادوں کا عموماً انفیکشن پکڑے جانے کے تین ماہ بعد پتہ چلتا ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کٹ سے کیا گیا ٹیسٹ مثبت آئے تو مکمل تصدیق کے لیے اسے ہر صورت میں کلنک اور لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔
مختلف خیراتی اداروں نے امید ظاہر کی ہےکہ اس کِٹ کی وجہ سے لگ بھگ چھبیس ہزار کے قریب ایسے افراد کی تعداد میں کمی آئے گی جو ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثر ہیں لیکن انھیں اس کا پتہ ہی نہیں۔اگر ایچ آئی وی کا ٹیسٹ شروع میں ہی ہو جائے تو علاج بھی جلد شروع ہو سکتا ہے جس سے سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ وہ لوگ جنھیں ایچ آئی وی کی انفیکشن ہو لیکن جن کا علاج کامیابی سے ہو جاتا ہے، ان سے یہ خدشہ کم ہوتا ہے کہ وہ جراثیم کسی دوسرے کو منتقل کریں گے۔خود کریں‘ نامی یہ نئی ٹیسٹ کِٹ برطانوی کمپنی بائیو شوئر یوکے نے تیار کی ہے جسے آن لائن خریدا جا سکتا ہے۔
یہ ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسے کسی خاتون کے حاملہ ہونے کا ٹیسٹ گھر میں کیا جا سکتا ہے۔ وائرس سے نمٹنے کے لیے خون میں جو پروٹین پیدا ہوتے ہیں نئی کٹ سے کیا گیا ٹیسٹ ان کی سطح کی پیمائش کرکے مثبت یا منفی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ایچ آئی وی کِٹ خون کے چھوٹے سے قطرے کا تجزیہ کرتی ہے جسے انتہائی باریک سوئی کی مدد سے انگلی کے سِرے سے لیا جاتا ہے۔ اگر ٹیسٹ مثبت ہو تو ارغوانی رنگ کی دو لائنیں نمودار ہو جاتی ہیں۔کِٹ بنانے والی کمپنی کا مشورہ ہے کہ ٹیسٹ کرنے والے کو جنسی صحت کے کلنک سے رائے لینا چاہیے اور اگر ٹیسٹ کے بعد ارغوانی رنگ کی دونوں لائنیں نمودار ہوجائیں تو مزید ٹیسٹ کرانا چاہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیسٹ منفی بھی آ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیسٹ کرنے والا ایچ آئی وی سے بچ گیا ہے۔خیراتی اداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کِٹ سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ ٹیسٹ کریں گے، خاص طور سے ایسے افراد جو پہلی بار کلنک جانے میں ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں۔برطانیہ میں این ایچ ایس سے ایچ آئی وی کے مفت ٹیسٹ کرانے کی سہولت موجود ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں بھی وزرائ قانون میں تبدیلیوں لانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایچ آئی وی کے ٹیسٹ کی کٹ کی فروخت وہاں بھی ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…