پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مایوسی والدین سے بچوں میں منتقل

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) مایوسی اور بے چینی چھوت کے مرض کی طرح ہوتی ہے جو والدین اور بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوسکتی ہے اور اس کا تعلق جینیات (جینیٹکس) سے بھی بڑھ کرہوتا ہے۔
کنگز کالج لندن میں نفسیات ، نفسیاتی معالجے اور نیوروسائنسز کے انسٹی ٹیوٹ نے ایک سروے کرایا جس میں شادی شدہ ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو یا تو دو بھائی تھے یا دو بہنیں اوران کی تربیت ایک ساتھ ہوئی تاکہ والدین کی تربیت، مزاج اور جینیات کا تعلق پہلے ہی واضح ہو، سروے میں ایک ہزارخاندانوں سے سوالات کئے گئے اور نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پریشان والدین کے بچوں میں بھی پریشانی کے واضح آثار ہوتے ہیں جو چھوٹی عمر میں بچوں کی ذہنی اور دماغی نشوونما پر شدید اثر انداز ہوتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ نے اس مطالعے کو ایک اہم سنگِ میل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس انداز سے والدین بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ ان کے بچوں کے رویے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو والدین تناو¿ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ماہرین نفسیات سے رجوع کریں تاکہ ان کے بچے ذہنی دباو¿ سے محفوظ رہ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…