اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

مایوسی والدین سے بچوں میں منتقل

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) مایوسی اور بے چینی چھوت کے مرض کی طرح ہوتی ہے جو والدین اور بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوسکتی ہے اور اس کا تعلق جینیات (جینیٹکس) سے بھی بڑھ کرہوتا ہے۔
کنگز کالج لندن میں نفسیات ، نفسیاتی معالجے اور نیوروسائنسز کے انسٹی ٹیوٹ نے ایک سروے کرایا جس میں شادی شدہ ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو یا تو دو بھائی تھے یا دو بہنیں اوران کی تربیت ایک ساتھ ہوئی تاکہ والدین کی تربیت، مزاج اور جینیات کا تعلق پہلے ہی واضح ہو، سروے میں ایک ہزارخاندانوں سے سوالات کئے گئے اور نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پریشان والدین کے بچوں میں بھی پریشانی کے واضح آثار ہوتے ہیں جو چھوٹی عمر میں بچوں کی ذہنی اور دماغی نشوونما پر شدید اثر انداز ہوتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ نے اس مطالعے کو ایک اہم سنگِ میل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس انداز سے والدین بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ ان کے بچوں کے رویے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو والدین تناو¿ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ماہرین نفسیات سے رجوع کریں تاکہ ان کے بچے ذہنی دباو¿ سے محفوظ رہ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…