اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

بدنامی کے خوف سے تیسری جنس کے افراد اپنا علاج کرانے سے بھی کتراتے ہیں، رپورٹ

datetime 26  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک )ایک رپورٹ کے مطابق جہاں تیسری جنس کے افراد کو معاشرے میں دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا وہیں یہ بدنامی اوررسوائی کے خوف سے اپنا علاج کرانے سے بھی کتراتے ہیں۔یونی ورسٹی ایٹ بفولو کے پبلک ہیلتھ نرس اور اسسٹنٹ پروفیسر اڈریان جواریز کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ صحت کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ہی نسل پرستی کو فروغ دے رہے ہیں جس کی وجہ سے تیسری جنس کے افراد اپنے آپ کوبنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کر لیتے ہیں۔ جواریز کا کہنا ہے کہ تصور کریں کہ اگر کسی شخص کو محض نسل پرستی اور تعصب کی بنا پر نوکری دینے سے انکار کردیا جائے تو اس کے پاس اخلاقی جرائم کی پاتال میں گرنے کے علاہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔امریکی ادارہ برائے حقوق تیسری جنس کی شائع ایک رپورٹ کے مطابق بدنامی کے خوف کے علاوہ غربت بھی ایک عنصر جو تیسری جنس کے افراد کے صحت کے مسائل کا سبب ہے جب کہ امریکا کے قومی ادارہ برائے صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کی ایک تہائی تیسری جنس میں ایڈز کا مرض پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ سیاہ فام امریکی جو تیسری جنس سے تعلق رکھتے ہیں ان میں ایڈز انفیکشن کا خطرہ زیادہ درجے پر پایا جاتا ہے جب کہ تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں میں 56 فیصد مخنث ایڈز کا شکار ہیں۔واضح رہے کہ 2011 میں تیسری جنس کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 6000 افراد میں سے 90 فیصد بد سلوکی ، نسلی تعصب اور خوف و ہراس کا شکار پائے گئے۔

مزید پڑھئے:روسی خلائی جہاز اسٹیشن کی بجائے زمین کی جانب گرنے لگا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…