پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

آئی یوڈی جدید دور میں خواتین میں مقبول

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )آئی یوڈی دور جدید میں خواتین میں مقبول عام مانع حمل طریقہ ہے جسے فی الوقت پاکستان میں مقبول کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ محفوظ اور موثر ہونے کے سبب امکان ہے کہ جلد ہی یہ پاکستان میں بھی شہرت کے معاملے میں مانع حمل کے دیگر طریقوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اس حوالے سے ایک شائع شدہ رپورٹ میں ایک میمی چیٹر کیتھلین برین نے اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں دعویٰ کیا ہے کہ آئی یو ڈی سے ایکنی وغیرہ کے مسائل بھی ختم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جلد کی مجموعی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیتھلین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 14برس سے اپنے ایکنی کے مسائل کی وجہ سے پریشانی کا شکار تھیں تاہم آئی یو ڈی کا استعمال شروع کرتے ہی ان کا یہ پرانا مسئلہ اس طرح غائب ہوا کہ جیسے یہ کبھی تھا ہی نہیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ دیگر لڑکیوں کی طرح دبلے ہونے کے خبط میں تو مبتلا نہ تھیں تاہم وہ اپنی ایکنی کے معاملے میں بے حد حساس تھیں اور کنسیلرز کی بھاری بھرکم تہے کے پیچھے اس ایکنی اور اس کے داغوں کو چھپانے کی کوشش کرتی تھیں۔ آخر کار جب انہوں ماہر جلد سے رابطہ کیا تو اس کی بتائی ہوئی کریمز نے صورتحال کو مزید خراب کردیا۔

مزید پڑھئے:سمارٹ فونز سے پیچھا چھڑانا اتنا مشکل نہیں جتنا لگتا ہے

حتیٰ کہ انہوں نے مسلسل اینٹی بائیوٹکس لیناشروع کردیں۔ اسی دوران وہ جنسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہونے لگیں تاہم مانع حمل طریقوں کیلئے وہ اپنی خاندانی معالج کے مشوروں پر عمل کو ہی ترجیح دیتی تھیں۔ ادھر اینٹی بائیوٹکس کے مسلسل استعمال سے ان کی جلد پر اب موٹے موٹے پھوڑوں کی مانند دانے نکلنے لگے۔ اسی دوران ان کا وزن بھی بڑھنے لگا اور مزاج پر قابو بھی ختم ہونے لگا۔ اسی دوران انہیں یہ احساس ہونے لگا کہ روزانہ مقررہ وقت پر مانع حمل گولی لینا کتنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات میں سے ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ مانع حمل گولیوں کے اثرات کو ختم کردیتا ہے، ایسے میں ان کا لینا تقریباً بیکار ہی تھی۔ انہی دنوں انہیں کسی نے یہ بتایا کہ کیا پتا ان کی ایکنی کا تعلق ہارمونز سے ہو اور دراصل یہ مانع حمل گولیاں اس صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث ہوں۔ اس کے بعد کیتھلین برین نے مانع حمل گولیاں کے بجائے دیگر طریقوں کے تجربے کا فیصلہ کیا اور تب ہی انہیں آئی یو ڈی کے بارے میں علم ہوا۔ انہوں نے اپنی معالج سے اس سلسلے میں رابطہ کیا کیونکہ کیتھلین کا خیال تھا کہ آئی یوڈی صرف ان خواتین کیلئے ہوتی ہے جو پہلے ہی ماں بن چکی ہوں۔ کیتھیلین برین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے انہیں متعدد مسائل سے بھی نجات مل چکی ہے اور اس کے استعمال کا طریقہ بھی کم از کم آئی بروز بنوانے سے کم تکلیف دہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…