اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وہ خوشخبری آگئی جس کا گنجے افراد کو صدیوں سے انتظار تھا

datetime 23  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک (نیو ز ڈیسک ) امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گنجے سر پر گھنے بال اگانے کا اب تک کا کامیاب ترین طریقہ دریافت کرلیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس طریقے میں سر کے مخصوص حصوں سے بال اکھاڑے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے بال اگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نئے بال حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ بالوں کو ایک مخصوص طریقے کے مطابق اکھاڑا جائے۔ تجربات کے دوران سر کی جلد کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے میں سے 200 بال اکھاڑے گئے تو اس سے کئی گنا زیادہ بال اگ آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بال اکھاڑے جاتے ہیں تو جسم ایک ڈسٹریس سگنل پیدا کرتا ہے جو مزید بال اگانے کا عمل شروع کردیتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق صرف چھوٹے سے حصے سے مخصوص تعداد میں بال اکھاڑنے سے ہی نئے بال اگتے ہیں کیونکہ اس صورت میں ڈسٹریس سگنل طاقتور ہوتا ہے۔ بڑے حصے سے کم بال اکھاڑنے پر سگنل کمزور ہوجاتا ہے اور نئے بال نہیں اگتے۔ یہ عمل صرف تجربہ کار ماہرین ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھئے:آپ اعصابی تناﺅ کا شکار ہیں تو جلد ہی اس سے چھٹکارا پائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…