اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ایبو لا وائرس کے لئے نئی ویکسین تیار

datetime 23  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس پر قابو پانے کے لیے تجرباتی طور پر بنائی گئی ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور وائرس سے متاثرہ بندر تجرباتی ویکسین سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ویکسین کے ذریعے ایبولا وائرس میں موجود داغ ’ماکونا‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایبولا کی وجہ سے مغربی افریقی ممالک میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں تجرباتی علاج کے لیے لائے گئے تینوں بند صحت مندر ہو رہے ہیں جبکہ ایبولا سے متاثرہ تین بندر جن کا علاج نہیں ہوا، بیماری کا شکار ہونے کے نو دن کے اندر اندر مر گئے۔اس وقت انسانوں میں ایبولا وائرس کو ختم کرنے کے لیے کوئی علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔امریکی یونیورسٹی آف ٹیکساس سے وابستہ سائنسدان تھامس جیسبرٹ کا کہنا ہے کہ ’ایبوالا وائرس سے متاثر ہونے والے کے مریض کے علاج کا یہ پہلا کامیاب تجربہ ہے۔‘امکان ہے کہ رواس سال کے آخر میں اس علاج کا تجربہ انسانوں پر کیا جائے گا۔مسٹر جیسیبرٹ نے کہا کہ ایبولا وائرس میں موجود داغ کو نشانہ بنانے والی یہ دوا آٹھ ہفتوں میں تیار کی جا سکتی ہے۔یہ دوا وائرس میں موجود مخصوص جین کو ختم کر دیتی ہے جس سے جسم میں وائرس کی تعداد بڑھتی نہیں ہے۔ایبولا کے علاج کے لیے اس سے قبل بنائی گئی دوا کو تیار کرنے کے لیے کئی ماہ کا وقت درکار تھا۔مارچ 2014 سے اب تک ابیولا وائرس سے 10602 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایبولا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں مغربی افریقی کے چھ ممالک، لائیبریا،گنی، سرالیون، مالی اور نائجریا سے ہے اور اب تک ایبولا کے 25556 کیسز درج ہوئے ہیں۔سنہ 1976 میں ایبولا وائرس کی دریافت کے بعد وائرس کا یہ مہلک ترین حملہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…