اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

گرمی کی تپش سے بچنے کے آسان طریقے

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) گرمی کے موسم میں لاپرواہی لو لگنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس دوران چہرہ سرخ ہونا، سانس لینے میں تکلیف اور چکر آنے جیسے علامات ہونے لگتے ہیں۔ لو سے بچنے کے لئے ان اقدامات کو آزما سکتے ہیں
ناشتہ: گھر سے نکلنے سے پہلے ناشتہ کرکے جائیں۔ خالی پیٹ رہنے سے زیادہ کمزوری رہتی ہے۔
املی: املی کا پانی پینا لو میں منافع بخش ہوتا ہے۔ املی کو پانی میں بھگوکر اس میں تھوڑا گڑ ملا لیں۔ اس کا پانی پیے اور املی کے گودے کو ہاتھ اور پاؤں کے تلووں پر ملے۔ ایک گلاس نیبو پانی میں نمک اور چینی ملا کر روزانہ لیں۔
کیری: لو سے بچنے اور لو لگنے پر کیری کا پنا بہت کارگار طریقہ ہے۔ اس کے لئے کیری کو ابالنے اور رند اتار کر اس میں سیاہ نمک، زیرا، پودینا و چینی ملا کر پیس لیں۔ اب اس پانی کو دن میں 3۔4 بار پیئے۔
پیاز: گرمی میں روزانہ دو بار پیاز کھائیں۔ یہ جسم کو ٹھنڈا برقرار رکھ کر لو لگنے سے بچاتا ہے۔

مزید پڑھئے:قابل اعتراض تصاویر شیئر کرنے والی ماڈل گرفتار

تلسی: تلسی کے پتوں کا رس چینی میں ملا کر پینا چاہئے۔ اس سے لو نہیں لگتی اور اگر لو لگی ہو تو مسئلہ میں آرام ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…