منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آ پکو کاجل لگانے کا طریقہ پتہ ہے ؟

datetime 9  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عام طور پرخواتین کاجل آنکھ کے اندرونی کنارے پر لگاتی ہیں، جبکہ وہ خواتین جنہیں آنکھیں بڑی دکھانے کا شوق ہو، وہ بیرونی کنارے پر کاجل لگاتی ہیں۔ اب ایک تحقیق میں ثابت
کیا گیا ہے کہ کاجل یا آئی لائنر کو آنکھ کے بیرونی کنارے پر ہی لگانا چاہئے کیونکہ اندرونی جانب لگانے کی صورت میں آنکھ کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
آئی اینڈ کانٹیکٹ لینس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے گلٹر آئی لائنر کو آنکھ کے بیرونی اور اندرونی کنارے پر لگایا اور اس کے بعد اس کے اثرات کو ریکارڈ کیا۔ اس دوران محسوس کیا گیا کہ اندرونی کنارے پر لگانے والی خواتین کا لائنر تیس فیصد جلدی اتر گیا۔اس موقع پر یہ بھی محسوس کیا گیا کہ لائنر کے ذرات نے آنکھ میں موجود نمی کی حفاظتی پرت کو آلودہ کردیا تھا۔یہ کیمیکلز آنکھ میں موجود اس حفاظتی پرت کو پھاڑ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوجائے تو ایسے میں بصارت کے پردے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی لائنر لگانے کی یہ تکنیک متعدد وجوہات کی بنا پر نقصان دہ ہے۔ اگر لائنر کی تیاری میں استعمال کئے جانے والے کیمیکلز اچھے معیار کے نہ ہوں تو ایسے میں آنکھوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر لینس پہننے والی خواتین آنکھ کے اندرونی کنارے پر کاجل یا آئی لائنر لگائیں گی تو ان کیلئے بھی یہ تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ حساس آنکھوں والے افراد کو بھی اس طریقے سے کاجل یا آئی لائنر لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئی لائنر میں موجود کیمیکلز کو آنکھ قبول نہ کرے تو ایسے میں آنکھ میں بیکٹیریا کے پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب میک اپ ماہرین کا کہنا ہے کہ میک اپ تیکنیکس میں کوئی حساب کا فارمولہ نہیں ہوتا ہے کہ کون سا طریقہ غلط اور کون سا طریقہ صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میک اپ کا بس ایک ہی اصول ہے کہ چہرے کی ساخت اور اپنی سہولت دیکھتے ہوئے میک اپ کیا جانا چاہئے۔ اس لئے اگر کسی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کاجل آنکھ کے اندر لگانا ٹھیک نہیں ہے تو وہ نہ لگائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…