اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شکر خوروں: کیلئے5ہزار کیلوریز والا میٹھا مفت دستیاب مگر شرط یہ ۔۔۔۔۔

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

پورٹس ماو¿تھ (نیوز ڈیسک) میٹھا کھانے کے شوقین حضرات عام طور پر اس جانب کم ہی توجہ دیتے ہیں کہ ان کے منتخب کردہ میٹھے میں کس قدر کیلوریز ہیں تاہم پورٹس ماو¿تھ کا ایک ڈیزرٹ ہاو¿س اپنے صارفین کو ایک ایسا میٹھا پیش کررہا ہے جسے کھاتے ہوئے نہ صرف صرف ایک کیلوری کا حساب رکھنا پڑے گا بلکہ اسے کھاتے ہوئے گھڑی پر بھی نگاہ رکھنی ہے۔ دراصل اس میٹھے میں کیلوریز کی مقدار ایک صحت مند فرد کیلئے روزانہ کی ضروریات کیلئے ضروری کیلوریز کی مقدار سے تین گنا زیادہ کیلوریز ہیں، اس کے علاوہ یہ ان افراد کیلئے بالکل مفت ہے جو کہ اسے 45منٹ کے اندر اندر کھا لیں گے۔ دی وکڈ ویفل میں دستیاب اس میٹھے میں انتہائی گاڑھی قسم کی آئسکریم کے 12سکوپس، چار چاکلیٹس کے فلیکس اور چار عدد7انچ چوڑے ویفلز شامل ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے اوپر ٹاپنگ کیلئے اچھی طرح پھینٹی گئی کریم بھی ڈالی جاتی ہے۔چار، 7انچ والے ویفلز کی تیار کیلئے 4انڈے، 3کپ دودھ،1کپ مکھن اور 3کپ معدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ا
س قدر بھاری بھرکم میٹھے کو ہضم کرنے کیلئے ہاتھی جیسا ہاضمہ بھی چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اسے خال خال ہی کوئی فرد مکمل طور پر ختم کرپاتا ہے جبکہ اسے مفت میں کھانے کیلئے مقررہ45منٹ کی شرط کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران صرف دو لوگ ہی پورا کرسکے ہیں۔ ان افراد کو فاتح کیلئے مخصوص ٹی شرٹ اور ایک وقت کا کھانا بھی مفت کھلایا گیا۔ اس دوران اس چیلنج کو قبول کرنے والوں کی تعداد درجنوں میں رہی تاہم کسی بھی شخص کا معدہ اس قدر بھاری میٹھے کو قبول نہ کرسکا۔ اس بارے میں ریستوران کے مالک ہیری ہیرسن کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں اس ویفل کو کھانے والے افراد مشکل سے آدھی پلیٹ ہی کھا پاتے ہیں جس کے بعد ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اس کی وجہ اس میں میٹھے کی بھاری مقدار کے علاوہ آئس کریم سکوپس ہیں جس کی وجہ سے کھانے والوں کو اس قدر شدیدسردی لگنا شروع ہوجاتی ہے کہ ان کا معدہ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا پھر سست پڑ جاتا ہے۔
اس چیلنج کو قبول کرنے والوں میں محض پیٹو پہلوان ہی شامل نہیں بلکہ نازک اندام حسینائیں بھی شامل ہیں تاہم کامیاب ہونے والوں میں سے ایک رینڈی سیٹل کی شہرت ہی ان کے پیٹو پن کی وجہ سے ہے۔ رینڈی بطور خاص امریکہ سے پورٹس ماو¿تھ اسی چیلنج کو قبول کرنے کی خاطر آئے تھے اور انہوں نے حیرت انگیز طور پر13منٹ11سیکنڈز میں یہ چیلنج جیت لیا تھا جبکہ دوسرے فاتح سائمن نے یہ چیلنج23منٹ میں اپنے نام کیا تھا۔ ویفل وکڈ چیلنج کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ تاحال برگر اور سٹیکس کے حوالے سے تو مختلف ریستورانوں میں مقابلے منعقد کرائے جاتے رہے ہیں تاہم میٹھا کھانے کا کوئی مقابلہ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…