منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

گیارہ برس کی ہر پانچویں لڑکی عمر سے پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کر دیتی ہیں

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں ڈائٹنگ کا رجحان اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب کمسن بچیاں بلوغت کی عمر میں داخلے سے بھی بہت پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کرچکی ہوتی ہیں۔ غذا پر کنٹرول کی عادت میں مبتلا بچیوں کی عمریں گیارہ برس سے بھی کم بتائی جارہی ہیں۔ برطانیہ کے گورنمٹ ایکویلیٹیز آفس کی جانب سے منعقد کی گئی اس تحقیق کے مطابق سکول جانے والی87 فیصد بچیوں کا خیال ہے کہ خواتین کو ان کی مہارت سے زیادہ رنگ روپ اور ان کے جسمانی خدوخال کی بنیاد پر نوکری دی جاتی ہے، اور اسی لئے ان میں وزن کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے رجحانات خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں تاکہ اپنے مستقبل کو وہ محفوظ کرسکیں۔ ان بچیوں میں ہر چھٹی بچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتی ہیں یا سکول کو کچھ عرصے کیلئے چھوڑ چکی ہے کیونکہ انہیں ایسا لگتا کہ ہے کہ ان کی جاسمت بھدی اور دوسروں کا سامنا کرنے کے لائق نہیں ہے۔ یہ رجحان دراصل ساتھیوں کی جانب سے دباو¿ کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں میں نہ صرف دبلی پتلی دکھائی دینے کا خبط بڑھ رہا ہے بلکہ وہ لڑکیاں جو موٹاپے کا شکار ہیں
ان میں اعتماد کی شدید کمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی بھدی جسامت کی وجہ سے انہیں مزاق کا نشانہ بننا پڑے گا۔ مزاق کا نشانہ بننے کا خوف انہیں مزید مسائل کا شکار بنا دیتا ہے کیونکہ وہ ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے موٹاپے سے نجات کیلئے خطرناک طریقے اپناتی ہیں، مثال کے طور پر کریش ڈائٹنگ، کھانا کھا کے قے کردینا، سگریٹ نوشی،کثرت شراب نوشی وغیرہ کے ذریعے بھوک ختم کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔
یہ موٹاپا ان کے اندر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا اعتماد بھی ختم کردیتا ہے جو کہ درحقیقت ان کا وزن کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ تحقیق میں شامل23فیصد لڑکیاں جن میں سات برس تک کی کم سن بچیاں بھی شامل تھیں،اس خیال کی قائل تھیں کہ وہ اپنی بھدی جسامت کی وجہ سے کھیلوں سے متعلقہ کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتی ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی جسامت اس قابل نہیں کہ وہ سپورٹس سوٹ میں اس کی نمائش کرسکیں جبکہ پچاس فیصد کے نزدیک وہ سپورٹس میں اس لئے حصہ نہیں لیتیں کہ پسینے میں ڈوبی ہوئی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی خطرناک شرح کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں ایک چوتھائی خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر قابو کیلئے لڑکیوں میں کھیلوں میں حصہ لینے کے رجحان کو فروغ دینے کیلئے ایک لاکھ پاو¿نڈز مالیت کی ایک ٹی وی کمپین بھی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کی سپورٹس میں حوصلہ افزائی کرناہے۔اس مہم کو پسند کرنے کی شرح میں بے حد تیزی دیکھی گئی ہے تاہم خواتین کا یہ کہنا تھا کہ وہ وزن کم رکھنے کیلئے مجبور ہیں کیونکہ میڈیا جب کسی بھی خاتون کو پیش کرتا ہے تو وہ ان کے کارناموں سے زیادہ ان کے ظاہری خدوخال پرتوجہ دیتا ہے۔ ایسے میں وہ مجبور ہیں کہ اپنے وزن کو ہرممکن طریقے سے قابو میں رکھیں ورنہ ڈپریشن کا شکار ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…