اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

گیارہ برس کی ہر پانچویں لڑکی عمر سے پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کر دیتی ہیں

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں ڈائٹنگ کا رجحان اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب کمسن بچیاں بلوغت کی عمر میں داخلے سے بھی بہت پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کرچکی ہوتی ہیں۔ غذا پر کنٹرول کی عادت میں مبتلا بچیوں کی عمریں گیارہ برس سے بھی کم بتائی جارہی ہیں۔ برطانیہ کے گورنمٹ ایکویلیٹیز آفس کی جانب سے منعقد کی گئی اس تحقیق کے مطابق سکول جانے والی87 فیصد بچیوں کا خیال ہے کہ خواتین کو ان کی مہارت سے زیادہ رنگ روپ اور ان کے جسمانی خدوخال کی بنیاد پر نوکری دی جاتی ہے، اور اسی لئے ان میں وزن کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے رجحانات خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں تاکہ اپنے مستقبل کو وہ محفوظ کرسکیں۔ ان بچیوں میں ہر چھٹی بچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتی ہیں یا سکول کو کچھ عرصے کیلئے چھوڑ چکی ہے کیونکہ انہیں ایسا لگتا کہ ہے کہ ان کی جاسمت بھدی اور دوسروں کا سامنا کرنے کے لائق نہیں ہے۔ یہ رجحان دراصل ساتھیوں کی جانب سے دباو¿ کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں میں نہ صرف دبلی پتلی دکھائی دینے کا خبط بڑھ رہا ہے بلکہ وہ لڑکیاں جو موٹاپے کا شکار ہیں
ان میں اعتماد کی شدید کمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی بھدی جسامت کی وجہ سے انہیں مزاق کا نشانہ بننا پڑے گا۔ مزاق کا نشانہ بننے کا خوف انہیں مزید مسائل کا شکار بنا دیتا ہے کیونکہ وہ ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے موٹاپے سے نجات کیلئے خطرناک طریقے اپناتی ہیں، مثال کے طور پر کریش ڈائٹنگ، کھانا کھا کے قے کردینا، سگریٹ نوشی،کثرت شراب نوشی وغیرہ کے ذریعے بھوک ختم کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔
یہ موٹاپا ان کے اندر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا اعتماد بھی ختم کردیتا ہے جو کہ درحقیقت ان کا وزن کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ تحقیق میں شامل23فیصد لڑکیاں جن میں سات برس تک کی کم سن بچیاں بھی شامل تھیں،اس خیال کی قائل تھیں کہ وہ اپنی بھدی جسامت کی وجہ سے کھیلوں سے متعلقہ کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتی ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی جسامت اس قابل نہیں کہ وہ سپورٹس سوٹ میں اس کی نمائش کرسکیں جبکہ پچاس فیصد کے نزدیک وہ سپورٹس میں اس لئے حصہ نہیں لیتیں کہ پسینے میں ڈوبی ہوئی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی خطرناک شرح کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں ایک چوتھائی خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر قابو کیلئے لڑکیوں میں کھیلوں میں حصہ لینے کے رجحان کو فروغ دینے کیلئے ایک لاکھ پاو¿نڈز مالیت کی ایک ٹی وی کمپین بھی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کی سپورٹس میں حوصلہ افزائی کرناہے۔اس مہم کو پسند کرنے کی شرح میں بے حد تیزی دیکھی گئی ہے تاہم خواتین کا یہ کہنا تھا کہ وہ وزن کم رکھنے کیلئے مجبور ہیں کیونکہ میڈیا جب کسی بھی خاتون کو پیش کرتا ہے تو وہ ان کے کارناموں سے زیادہ ان کے ظاہری خدوخال پرتوجہ دیتا ہے۔ ایسے میں وہ مجبور ہیں کہ اپنے وزن کو ہرممکن طریقے سے قابو میں رکھیں ورنہ ڈپریشن کا شکار ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…