اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

زیادہ شکر کا استعمال مو ٹاپے اور دانتوں کی خرابی کا باعث

datetime 6  مارچ‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک )عالمی ادارہ ِصحت نے متنبہ کیا ہے کہ خوراک میں ضرورت سے زیادہ شکر کا استعمال نہ صرف موٹاپے بلکہ دانتوں کی خرابی کے علاوہ دیگر کئی امراض کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اقوام ِمتحدہ کے صحت سے متعلق ادارے نے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کی رو سے بڑوں اور بچوں کو اپنی روزمرہ خوراک میں سے شکر کا 10 فیصد کم کرنا چاہیئے، تاکہ وہ مستقبل میں کئی طبی مسائل سے بچ سکیں۔گذشتہ کئی سالوں سے ایسی اشیا کی فروخت میں، جس میں شکر کی مقدار زیادہ ہو، تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسی چیزوں میں ’گلوکوز‘، فرکٹوز‘ اور ’چینی‘ شامل ہے۔ مگر روزمرہ کی خوراک میں زیادہ شکر کے باعث لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے برے نتائج سامنے آئے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق، 1980ءکے بعد سے دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح میں دو گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔عالمی ادارہ ِصحت کا کہنا ہے کہ 2014ءمیں 18 برس یا اس سے بڑی عمر کے 1.9 ارب افراد کا وزن ان کے نارمل وزن سے زیادہ تھا، جبکہ ان میں سے چھ سو ملین افراد زیادہ موٹاپے کا شکار تھے۔ 2013ءمیں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 42 ملین بچے موٹاپے یا شدید موٹاپے کا شکار تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے آگہی بڑھائی جائے اور یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ زیادہ شکر والی غذاو¿ں کے استعمال سے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خوراک میں شکر کی مقدار کم کرکے نہ صرف موٹاپے سے  ممکن ہے بلکہ دانت بھی صحتمند رہتے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق کاربونیٹڈ ڈرنکس یا سوڈے میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سوڈے کے ایک کین میں 10 ٹی سپون شکر موجود ہوتی ہے جو انسان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ دودھ، پھلوں اور سبزیوں میں موجود شکر انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…