ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نیند کی کمی بن جاتی ہے موٹاپے کا سبب

datetime 14  فروری‬‮  2015 |

نیویارک کیا آپ اپنے بڑھتے جسمانی وزن سے پریشان ہے ؟ تو اس کا ملزم آپ کے کھانے کی عادات نہیں بلکہ آپ کی خراب نیند ہوسکتی ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ پینسلوانیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ایک رات کی خراب نیند بھی لوگوں کے اندر بہت زیادہ چربی والی غذاﺅں کا رجحان بڑھا دیتی ہے اور وہ زیادہ مقدار میں خوراک جسم کا حصہ بنانے لگتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کی کمی یا ناقص معیار لوگوں کے اندر موٹاپے کا سبب بننے والی خوراک کی رغبت بڑھا دیتا ہے اور وہ صحت بخش کھانوں کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 34 رضاکاروں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ نیند کی کمی لوگوں کو زیادہ خوراک جسم کا حصہ بنانے کی جانب لے جاتی ہے اور کھانے کا انتخاب بھی ایسا ہوتا ہے جو موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے پہلے ماضی میں سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ نیند کی عادات اور جسمانی وزن میں اضافے کا باعث میٹابولک ہارمونز میں تبدیلیاں آنا ہے تاہم اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درحقیقت ہمارے دماغی نیٹ ورک میں آنے والی تبدیلیاں ہمیں وزن میں اضافہ کرنے والی خوراک کی جانب لے جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…