بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان پر مسلط کی گئی 13 سالہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی، کیا کھویا کیا پایا؟

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

کابل: افغانستان میں نیٹو نے 13 سال جنگ کے بعد مشن ختم کردیا جب کہ اس حوالے سے دارالحکومت کابل میں خفیہ مقام پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کامیابی کا جشن منایا گیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان پر مسلط کی گئی 13 سالہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی جب کہ اس حوالے سے جشن کی تقریب کا انعقاد دارالحکومت کابل میں کیا گیا تاہم سیکیورٹی خدشات اور طالبان کے ممکنہ حملے کے پیش نظر تقریب کو خفیہ رکھا گیا اورحکام کی جانب سے اس میں نہ تو کسی میڈیا کو مدعو کیا گیا اور نہ ہی تقریب کی جگہ کاباقاعدہ اعلان کیا گیا۔ ایساف کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق نیٹو کمانڈر جنرل جون کیمپبل نے 50 سے زائد ممالک کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان کے عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی امید دے کر جارہے ہیں اور نیٹو کی قربانیوں کی بدولت اب افغانستان مضبوط اور ہمارے ممالک محفوظ ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ ہر فوجی کو افغانستان میں اپنے کام پر فخرہوگا اور آئندہ بھی اسی جوش و جذبے سے مضبوط افغانستان کا عزم لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کی جشن کی آج ہونے والی تقریب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور وہ افغانستان سے بھاگ رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ  افغان جنگ کو ادھورا چھوڑ کر جانے سے لگتا ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اوراسے طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 2001 سے جاری جنگ میں 50 ممالک کے ایک لاکھ 30 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا جس میں 3 ہزار 485 فوجی ہلاک ہوئے اور یکم جنوری 2015 کے بعد افغان مشن کے خاتمے کے بعد بھی 12 ہزار 500 نیٹو فوجی افغانستان میں قیام کریں گے جو  افغان آرمی اور پولیس کی تربیت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…