اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عوامی مطالبات پر عدم توجہ کسی بھی سانحہ کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے، قائد الطاف حسین

datetime 16  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سقوط ڈھاکہ ماضی کے نااہل حکمرانوں کی سنگین غلطیوں کا شاخسانہ تھا اور یوم سقوط ڈھاکہ کو ملک بھر میں ’’یوم ندامت ‘‘ کے طور پر منانا چاہئے۔یوم سقوط ڈھاکہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے ساتھ مسلسل کی جانے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے سبب ملک دولخت ہوا تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مغربی پاکستان کے حکمران سابقہ مشرقی پاکستان کی جماعت عوامی لیگ کے جائز مینڈیٹ کو تسلیم کرلیتے اور انہیں ان کے حقوق دے دیتے تو سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا اور ملک دولخت ہونے سے بچ جاتا لیکن سابق حکمرانوں کی روش نے بنگالی عوام کو ان کے حقوق دینے کے بجائے ملک توڑنا گوارا کرلیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ آج بھی ملک میں مختلف قومیتوں کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اور نئے انتظامی یونٹس کے عوامی مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جبکہ آہستہ آہستہ معاملات اس نہج کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں جو کسی بھی سانحہ کو جنم دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ملک کے موجودہ ارباب اختیار و اقتدار کو ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور ملک کی مختلف قومیتوں کے حقوق فی الفور دیکر ملک میں قومی یکجہتی اور اتحاد کو مضبوط و مستحکم بنایا جائے۔ برسوں گزر جانے کے باوجود آج بھی بنگلا دیش کے کیمپوں میں پاکستانی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ پاکستان سے محبت کی پاداش میں آج ان کی نسلیں تک غلاموں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ پاکستانی 1971ء سے پاکستان کے حکمرانوں کی توجہ اور مدد کے طالب ہیں لیکن ارباب اختیار و اقتدار کی محب وطن پاکستانیوں کی واپسی کے لئے کسی قسم کے انتظامات نہ کرنا کھلی بے حسی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…