جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مردوں کے کپڑے پہن کر سٹیڈیم میں داخل ہونے والی سعودی خاتون کو پولیس نے نکال دیا

datetime 15  دسمبر‬‮  2014 |

ریاض ۔۔۔۔ اتوار کے روز جاری کیے گئے سعودی پولیس کے بیان مطابق ایک خاتون پرستار جو بھیس بدل کر فٹ بال کا میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں داخل ہوئی تھی،انھیں حکام کی جانب سے سرخ کارڈ دکھا دیا گیا۔سعودی ریاست میں مردوں اور عورتوں کا گھلنا ملنا سختی سے منع ہے اور عورتوں کی فٹ بال اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی ہے۔لیکن جمعے کو جدہ کے الجوارا اسٹیڈیم میں عبدالطیف جیل سعودی پروفیشنل لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک خاتون پرستار چپکے سے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
پولیس کے ترجمان عطی القریشی مطابق ریاض کی الشباب اور جدہ کی الاتحاد ٹیموں کے درمیان میچ پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں سے بچنے کے لیے وہ مردوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس نے اپنا سر بھی ڈھانپا ہوا تھا۔یو ٹیوب پر شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں اس خاتون کو الشباب کلب کے مداحوں کے لیے مخصوص حصے میں کچھ خالی نشستوں کے درمیان بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔کالے چشمے اور سیاہ لباس تن کیے اس عورت کو قریب بیٹھا شخص غور سے دیکھ رہا ہے۔ویڈیو میں لگ رہا ہے کہ یہ خاتون ایک بہت بڑی ٹوپی اور الشباب کے سیاہ اور سفید رنگ والا دوپٹہ لی ہوئے ہے۔پولیس ترجمان قریشی کا کہنا تھا کہ اس عورت کی اسٹیڈیم میں موجودگی قواعد و ضوابط کے خلاف ہے اور اس نے اپنا ٹکٹ انٹرنیٹ سے خریدا تھا۔
ترجمان نے اس بات کی تو وضاحت نہیں کی کہ آیا اس خاتون کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کی جا? گی یا نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفصیلات متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گھر سے باہر نکلنے اور شادی جیسے معاملات کے لیے بھی مرد سرپرست کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔الشباب نے یہ میچ 1۔0 سے جیت لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…